الإثنين، 12 شوال 1447| 2026/03/30
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

اداریہ

 

ایران کی جنگ اور طاقت کی آزمائشیں

 

 

تحریر: پروفیسر احمد الخطوانی

 

(ترجمہ)

 

امریکہ اور یہودی وجود کی جانب سے ایران پر مسلط کی گئی جارحانہ جنگ محض خلیجی خطے میں ہونے والی کوئی فوجی کارروائی نہیں ہے، بلکہ یہ امریکی طاقت کی حدود اور ایک ایسے عبوری دور میں جہاں عالمی طاقتوں کا توازن تیزی سے بدل رہا ہے، نئے علاقائی تنازعات سے نمٹنے کی عالمی نظام کی صلاحیت کا ایک پیچیدہ امتحان ہے۔

 

فوجی طاقت اپنی تمام تر اہمیت کے باوجود تنہا بڑے سٹریٹجک اہداف حاصل کرنے کے لیے کافی نہیں ہوتی۔ خلیج عرب جیسے حساس علاقوں میں ہونے والی فوجی جنگیں عالمی معیشت، توانائی کی بین الاقوامی منڈیوں اور عالمی تجارت سے گہرا تعلق رکھتی ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ یہ علاقہ دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہوں میں سے ایک یعنی "آبنائے ہرمز" کے قریب واقع ہے، جہاں سے دنیا کی 20 فیصد تیل اور گیس کی سپلائی گزرتی ہے۔

 

امریکہ نے ابتدا میں یہ اندازہ لگایا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ غالباً محض ایک عارضی فوجی ٹکراؤ ہوگا، اور اسے اس بات کا ادراک نہیں تھا کہ یہ جنگ اس کی طاقت کی حدود اور اس جنگ کے ذریعے عالمی نظام کو چلانے کی اس کی صلاحیت کا سب سے اہم امتحان بن جائے گی۔

 

جنگ کے پہلے ہی دن سے امریکی صدر ٹرمپ نے ایران پر فوری فتح حاصل کرنے کے خیال کی تشہیر کی، لیکن جنگ کے پے در پے آنے والے واقعات نے ان دعووں کو غلط ثابت کر دیا۔ چنانچہ ٹرمپ مجبور ہو کر اپنے یورپی اور نیٹو اتحادیوں، بلکہ چین، آسٹریلیا اور جاپان سے بھی آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی حفاظت کے لیے مدد مانگنے لگا۔ جس کا عملی مطلب یہ ہے کہ وہ ان سے ایران کے خلاف جنگ میں مدد مانگ رہا ہے، اور یہ عمل اس کی مبینہ فتح کے دعوے کی صریح نفی کرتا ہے۔

 

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو آسانی سے بند کر دینے اور وہاں جہاز رانی معطل کر دینے نے عالمی معیشت کو توانائی کے ایک ایسے حقیقی بحران سے دوچار کر دیا ہے جس نے جنگ کے جاری رہنے پر عالمی تشویش کی شدت کو ظاہر کیا ہے۔ اس صورتحال نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ خلیج میں کوئی بھی فوجی تصادم محض ایک محدود علاقائی معاملہ نہیں رہتا، بلکہ یہ فوری طور پر ایک عالمی معاشی مسئلہ بن جاتا ہے۔

 

خلیج میں جاری یہ جنگ اب پوری دنیا کو متاثر کر رہی ہے۔ ایران اس جنگ کے ذریعے "ڈیٹرنس" (دفاعی رعب) کے ایسے نئے قواعد قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے جن کے ذریعے وہ اپنے نظامِ حکومت کو گرنے سے بچا سکے۔ وہ سر تسلیم خم کرنے اور ایک ایسی وجود کی سطح پر آنے سے انکار کر رہا ہے جو کسی کے زیرِ اثر رہنے کے بجائے محض ایک تابع وجود بن کر رہ جائے۔ چنانچہ وہ امریکہ اور یہودی وجود کی جانب سے لگنے والی شدید ضربوں کو برداشت کر رہا ہے، قربانیاں دے رہا ہے اور اپنی پوزیشن پر برقرار رہنے کی امید میں اور پچھلے چالیس سال سے قائم اپنے طرزِ حکومت کو بچانے کے لیے اپنے عوام کی مشکلات پر صبر کر رہا ہے۔

 

جہاں تک یورپ کا تعلق ہے، تو خلیج میں جہاز رانی کی حفاظت کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کے تجویز کردہ بحری اتحاد میں مکمل طور پر شامل ہونے میں اس کی واضح ہچکچاہٹ اس گہری دراڑ کی عکاسی کرتی ہے جو یورپ اور امریکہ کے درمیان بڑھ چکی ہے اور جس نے ان کے روایتی تاریخی اتحاد کو کاری ضرب لگائی ہے۔ شاید جرمن چانسلر فریڈرک میرٹز نے جنگ کے بارے میں یورپ کے موقف کا اظہار ان الفاظ میں کیا ہے: "مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نیٹو کا معاملہ نہیں ہے، اس لیے جرمنی اس میں فوجی مداخلت نہیں کرے گا۔" یہاں تک کہ وہ یورپی ممالک جو ایران کو لگام ڈالنے کے ہدف پر ٹرمپ انتظامیہ سے متفق ہیں، وہ بھی اب کھل کر ایک ایسی واضح مشترکہ حکمت عملی کی کمی کا تذکرہ کر رہے ہیں جس کے ذریعے جنگ کو تیزی سے اور کسی اطمینان بخش نتیجے پر ختم کیا جا سکے۔

 

جہاں تک روس اور چین کا تعلق ہے، وہ فوجی صورتحال کا محتاط انداز میں جائزہ لے رہے ہیں اور اس خواہش میں ہیں کہ امریکہ خلیج کی دلدل میں پھنس جائے۔ وہ اسے ایسی طویل اور بے سود جنگوں میں الجھا کر کمزور کرنے کے درپے ہیں جو اس کی قوت کو ختم کر دیں، تاکہ بعد ازاں وہ اس خطے میں اپنی معاشی اور سیاسی موجودگی ثابت کرنے کے لیے آگے بڑھ سکیں۔

 

جنگ کے تسلسل کی وجہ سے آبنائے ہرمز کے دونوں جانب تیل بردار بحری جہازوں کے ڈھیر لگ گئے ہیں اور ان کی آمد و رفت رک گئی ہے، جس نے اب تک تیل کی فی بیرل قیمت کو 120 ڈالر تک پہنچانے میں حصہ ڈالا ہے، اور اگر جنگ آنے والے کئی ہفتوں تک جاری رہی تو شاید یہ قیمت 200 ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ یہ صورتحال عالمی معیشت میں جمود پیدا ہونے کے عالمی خدشات کو بڑھا رہی ہے، خاص طور پر اس وقت جب ایران کے "پارس" توانائی کے مراکز کو نشانہ بنائے جانے کے جواب میں خلیجی ممالک کی بعض تیل اور گیس کی تنصیبات کو ایرانی میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔

 

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ جنگ آنے والے برسوں میں عالمی نظام کے نئے خدوخال واضح کرنے کا باعث بنے گی، خاص طور پر جب ٹرمپ انتظامیہ ایران کو ہتھیار ڈالنے کی کسی بھی صورت پر مجبور کرنے، اور ایرانی قیادت کو تبدیل کرنے یا ایرانی نظام کو گرانے میں ناکام ہو گئی۔ چنانچہ اب ان اہداف سے واضح پسپائی اختیار کی گئی ہے اور دوبارہ یہ دعویٰ کیا جانے لگا ہے کہ امریکہ صرف ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کو ختم کرنا چاہتا ہے۔

 

امریکہ اور یہودی وجود کی جارحیت پر ایران کا ردعمل ایک "وجود کی بقا" کی جنگ والا ردعمل تھا، نہ کہ ویسا جیسا ٹرمپ انتظامیہ نے توقع کی تھی کہ یہ محض ایک رسمی اور محدود ردعمل ہوگا۔ یہ ردعمل صرف یہودی وجود اور خلیجی ممالک پر میزائل داغنے تک محدود نہیں رہا بلکہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے اور اسے بند کر کے عالمی معیشت کو متاثر کرنے کے لیے استعمال کرنے تک پھیلا ہوا تھا۔

 

اسی طرح ایران نے لبنان میں اپنی جماعت (حزب اللہ) کے کارڈ کو غیر متوقع طور پر اتنی اعلیٰ صلاحیت کے ساتھ استعمال کیا جس نے یہودی وجود کو دوبارہ لبنانی دلدل میں ڈبونے کا تصور تازہ کر دیا جیسا کہ بیسویں صدی کی اسی کی دہائی میں ہوا تھا، اور ضرورت پڑنے پر حوثیوں کے کارڈ کو اس سے بھی زیادہ بہتر طریقے سے استعمال کرنے کا اشارہ بھی دیا۔

 

درحقیقت کئی امریکی رپورٹس میں بھی یہی بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ کی ٹیم نے "کم از کم دو معاملات میں غلط اندازہ لگایا: پہلا یہ کہ ایران اس بار جنگ کو اپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھ کر جواب دے گا، نہ کہ اسے پچھلے سال کی مختصر جنگ کی طرح محض دفاعی رعب کا ایک محدود دور سمجھے گا۔ دوسرا یہ کہ آبنائے ہرمز اور توانائی پر پڑنے والے اثرات پر تیزی سے قابو پایا جا سکے گا، یہی وجہ ہے کہ انتظامیہ کو لڑائی کے دوران اپنے منصوبوں میں تبدیلی کرنی پڑی؛ یعنی سفارتکاروں کو تیزی سے نکالنے کے منصوبے سے ہٹ کر ایندھن کی قیمتیں کم کرنے کے آپشنز تلاش کرنے پڑے، اور پھر بحری جہازوں کو اپنی نگرانی میں گزارنے کی دیر سے بات کی گئی، اس سے پہلے کہ یہ واضح ہوا کہ امریکی بحریہ بلند خطرات کی وجہ سے فی الوقت اس مرافقت کو ممکن نہیں سمجھتی"۔

 

ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اب اپنی ساکھ بچانے کے لیے کوئی راستہ تلاش کر رہی ہے، خاص طور پر امریکہ کے اندر اور باہر جنگ کو طویل کرنے کی شدید سیاسی مخالفت کے پیش نظر، اور آئندہ نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات پر اس کے منفی اثرات کے خوف کی وجہ سے۔

 

اور قوی امکان یہی ہے کہ ٹرمپ جھوٹ پر مبنی کسی شاندار فتح کا اعلان کرے گا اور یہ دعویٰ کرے گا کہ اس کی افواج نے ایران کی 90 فیصد سے زیادہ طاقت کو تباہ کر دیا ہے اور اسے بیس سال پیچھے دھکیل دیا ہے۔ وہ یہ بھی کہت گا کہ ایران کا محاصرہ اور اس پر پابندیاں جاری رہیں گی، اور جب بھی ضرورت محسوس ہوئی اسے نشانہ بنایا جاتا رہے گا یہاں تک کہ ایران مکمل طور پر ان کی تمام شرائط تسلیم کر لے۔

 

دوسری جانب اس جنگ نے آبی گزرگاہوں کے ذریعے بین الاقوامی جہاز رانی کی آزادی میں موجود شدید کمزوری اور ان گزرگاہوں کو تحفظ فراہم کرنے میں بڑی طاقتوں کی نااہلی کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اس نے عالمی معیشت کی نزاکت اور توانائی کے ذرائع کے ساتھ اس کے گہرے تعلق کو بھی آشکار کر دیا ہے، جس نے عالمی نظام پر امریکی بالادستی کے زوال، "یک قطبی دنیا" کے تصور کی ناکامی، اور ٹرمپ کی ان کوششوں کی ناکامی کی تصدیق کر دی ہے جن کا مقصد ایک ایسا نیا عالمی نظام بنانا ہے جس پر تنہا امریکہ کا کنٹرول ہو۔

Last modified onپیر, 30 مارچ 2026 05:01

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک