بسم الله الرحمن الرحيم
ابو الظہور: کیا اعلانیہ تصادم ، نارملائزیشن کی طرف لے جا رہا ہے؟
تحریر: انجینئر وسام الاطرش
(ترجمہ)
18اگست کو ادلب کے دیہی علاقے میں ابو الظہور فوجی ایئر بیس پر ہونے والی بمباری، شامی سرزمین پر یہودی وجود کی جانب سے محض ایک نیا فضائی حملہ نہیں تھی۔ اس یہودی وجود نے اس مقام کو آٹھ فضائی حملوں کا نشانہ بنایا، جبکہ یہ ایئر بیس ترکی کی سرحد سے تقریباً 60سے 80کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، اور یہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب شامی فوج کی تعمیرِ نو میں ترکی کا کردار بڑھ رہا تھا۔ یہودی وجود نے اس حملے کو واضح طور پر ممکنہ ترک فوجی موجودگی سے جوڑا، کیونکہ نیتن یاہو نے کہا کہ دمشق اس ایئر بیس پر ترک افواج کو تعیناتی کی اجازت دینے کے قریب پہنچ چکا تھا، جسے یہودی وجود نے اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھا، جبکہ انقرہ اور دمشق نے اس قسم کی کسی بھی تعیناتی کی تردید کی (الجزیرہ نیٹ، 19/08/2026)۔
اور اس طرح یہ بمباری بظاہر شام کے اندر اثر و رسوخ کی بڑھتی ہوئی کشمکش کا حصہ نظر آئی، یہاں تک کہ میڈیا کے بہت سے تجزیوں نے اسے یہودی وجود اور ترکی کے درمیان ایک قریبی تصادم کے اشارے کے طور پر پیش کیا۔ چنانچہ انقرہ اور دمشق کے درمیان بڑھتے ہوئے فوجی تعاون اور شامی فوجی صلاحیتوں کو ترقی دینے میں ترکی کے ممکنہ کردار کے پیشِ نظر، شامی سرزمین دونوں فریقین کے درمیان اثر و رسوخ کی حدود کو جانچنے کا میدان بن گئی۔
لیکن سب سے معنی خیز پیش رفت عسکری نہیں بلکہ سیاسی تھی۔ رپورٹس سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ موساد کے سربراہ رومان غوفمان نے ابو الظہور پر بمباری سے چند روز قبل 14اگست کو شامی وزیرِ خارجہ اسعد الشیبانی سے رابطہ کیا تھا، اور شام میں ترک فوج کی موجودگی اس گفتگو کے موضوعات میں سے ایک تھی۔ پھر بمباری کے چند روز بعد، خود الشیبانی نے اردن میں ایک اعلیٰ سطحی ملاقات میں موساد کے سربراہ سے ملاقات کی، جو کشیدگی کو کم کرنے کے معاملات پر بات چیت کے لیے مخصوص تھی (العربیہ، 23/08/2026)۔
اور یہاں ایک ایسا تضاد سامنے آتا ہے جو غور طلب ہے: اگر ابو الظہور پر بمباری کا مقصد، یہودی وجود کے دعوے کے مطابق، شام میں ترکی کے اثر و رسوخ کے پھیلاؤ کو روکنا تھا، تو اس کا ایک سب سے نمایاں سیاسی نتیجہ دمشق کو تل ابیب کے ساتھ براہِ راست رابطے کی راہ پر ڈالنا تھا، جو شامی وزیر خارجہ کی موساد کے سربراہ کے ساتھ ملاقات کی حد تک پہنچ گیا۔ چنانچہ اب سوال صرف عسکری ہدف کی نوعیت کا نہیں رہا، بلکہ اس سیاسی راستے کا ہے جو اس کے بعد کھلا: کیا کشیدگی میں کمی لانا محض ایک عارضی واقعے کو سنبھالنے کا ایک سکیورٹی اقدام تھا، یا یہ شام کو رفتہ رفتہ یہودی وجود کے ساتھ مفاہمت کے ایک وسیع تر جال میں شامل کرنے کی سمت ایک قدم ہے؟
اور اس سوال کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب خود ترکی اور یہودی وجود کے درمیان تعلقات کی نوعیت پر نظر ڈالی جائے۔ ترکی صلیبی نیٹو اتحاد کا رکن ہے، اور ساتھ ہی وہ ایک ایسا ملک ہے جس کے یہودی وجود کے ساتھ باضابطہ تعلقات ہیں، اور اس نے غزہ پر یہودیوں کی جنگ کے دوران بھی ان تعلقات کو منقطع نہیں کیا، باوجود اس کے کہ اس کے سیاسی بیانات میں اس کے خلاف شدید تند و تیزی دیکھی گئی۔ اور یہاں بین الاقوامی تعلقات کو سمجھنے کا ایک بنیادی اصول سامنے آتا ہے: سیاست کو محض نعروں اور بیانات سے نہیں ناپا جاتا، بلکہ اس سے ناپا جاتا ہے جو بند کمروں میں ہوتا ہے اور جو عملی سیاسی راستوں کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
اور اس زاویے سے، اس تصویر کو احتیاط کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے جو بہت سے ذرائع ابلاغ ترکی اور یہودی وجود کے درمیان کسی قریبی تصادم کے حوالے سے پیش کرتے ہیں۔ اثر و رسوخ کی کشمکش حقیقی ہو سکتی ہے، اور شام میں دونوں فریقین کے مفادات متصادم ہو سکتے ہیں، لیکن اس کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ حتمی راستہ ایک کھلا تصادم ہی ہوگا۔ کیونکہ ترکی اور یہودی وجود بیک وقت ایک دوسرے کے ساتھ رابطے کے چینلز اور باہم گتھے ہوئے مفادات رکھتے ہیں، اور دونوں ایک ہی علاقائی اور بین الاقوامی نظام کے اندر حرکت کرتے ہیں، جبکہ امریکہ خطے کے توازن کو برقرار رکھنے میں ایک مرکزی کھلاڑی کا کردار ادا کر رہا ہے۔
اور یہاں ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان کی ایک نئے علاقائی نظام کی تعمیر سے متعلق گفتگو خاص اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ پس اگر یہ سکیورٹی نظام خطے میں تعلقات اور قوتوں کی ازسرِ نو ترتیب پر مبنی ہے، تو اس یہودی وجود کو اس میں شامل اور ضم کرنا کوئی ناممکن بات نظر نہیں آتی، بلکہ یہ ان امکانات میں سے ایک ہو سکتا ہے جن پر انتہائی سنجیدگی اور سکون سے کام کیا جا رہا ہے۔ اور ایسی صورت میں، ترکی کا یہودی وجود کے ساتھ تصادم لازمی طور پر نارملائزیشن کے عمل کا متضاد نہیں ہے، بلکہ یہ ان عوامل میں سے ایک بن سکتا ہے جو کرداروں کو دوبارہ تقسیم کرتے ہیں اور فریقین کو اثر و رسوخ کے نئے ضابطوں پر گفت و شنید کی طرف دھکیلتے ہیں، خصوصاً اگر امریکہ اپنے علاقائی مہروں کے ذریعے ایران کے مہروں کا گھیراؤ کرنے میں کامیاب ہو جائے۔
اور یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ شام، جو کبھی مزاحمت کے نعرے کی آڑ لیتا تھا، جابر اسد کے زوال کے بعد اپنے نئے حکمرانوں کی (سیاسی دانشمندی!) کے سائے میں خود کو کہیں زیادہ پستی اور مغلوبیت کا شکار پاتا ہے۔ کیونکہ اس کی سرزمین پر یہودی وجود کے حملے مزید شدت کے ساتھ جاری ہیں، ترکی کا اثر و رسوخ پھیل رہا ہے، روس اپنی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے، امریکہ توازن برقرار رکھنے کے لیے کوشاں ہے، جبکہ شام خود تل ابیب کے ساتھ براہِ راست رابطوں میں داخل ہونا شروع ہو گیا ہے! اور اس طرح معاملہ اب محض یہ طے کرنے کا نہیں رہا کہ کسی فوجی اڈے یا علاقے میں کس کا عسکری اثر و رسوخ ہے، بلکہ نئے علاقائی نظام کے اندر شام کے مقام کا تعین کرنا ہے۔
اور اسی لیے ابو الظہور پر بمباری کو ایک ایسے منظرنامے کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے جو خود عسکری حملے کی حدود سے کہیں آگے نکل جاتا ہے۔ اس نے ایک ایسے مقام کو نشانہ بنایا جس کا نام ترکی کے ممکنہ اثر و رسوخ سے وابستہ تھا، لیکن یہ حملہ یہودی وجود کے ساتھ شامی سکیورٹی حکام کے رابطوں کے عین مطابق ہوا، اور اس کا اختتام شامی وزیر خارجہ اور موساد کے سربراہ کے درمیان ایک اعلانیہ ملاقات پر ہوا۔ اور سیاست میں، یہ عملی نتائج فریقین کے مابین سخت بیانات کی بلند بانگ لفاظی سے کہیں زیادہ معنی خیز ہوتے ہیں۔
لہذا، ان پیش رفتوں سے جو سوال پیدا ہوتا ہے وہ صرف یہ نہیں ہے کہ: کیا ہم شامی سرزمین پر ترکی اور یہودی وجود کے درمیان ایک قریبی تصادم کے دہانے پر کھڑے ہیں؟ بلکہ یہ ہے کہ: کیا ہم اس تنازع کی ایسی ازسرِ نو ترتیب کے سامنے کھڑے ہیں جو شام کو یہودی وجود کے ساتھ مذاکرات کی میز پر لا کھڑا کرے، وہ بھی ایک ایسے نئے علاقائی نظام کے تحت جہاں ترکی، یہودی وجود اور امریکہ کے مفادات آپس میں ہم آہنگ ہوتے ہیں؟
کیونکہ جو کچھ اعلانیہ کہا جاتا ہے وہ کچھ اور ہوتا ہے، اور بند دروازوں کے پیچھے جو کچھ چلتا ہے وہ کچھ اور ہوتا ہے۔ اور آخری تجزیے میں اصل بات وہ نعرے نہیں ہیں جو ریاستیں اور ان کے حکمران بلند کرتے ہیں، بلکہ وہ پالیسیاں ہیں جنہیں وہ لاگو کرتے ہیں۔ اور اگر ابو الظہور کو نشانہ بنانے کا انجام دمشق کو تل ابیب کے ساتھ براہِ راست رابطے کے چینل کے قریب لانے پر ہوا، تو اس کا ایک سب سے نمایاں سیاسی نتیجہ دمشق کو تل ابیب کے ساتھ براہِ راست رابطے کی راہ پر ڈالنا تھا، تو سب سے اہم بات صرف یہ جاننا نہیں ہے کہ بمباری کا نشانہ کون تھا، بلکہ یہ جاننا ہے کہ اس کے نتائج نے خطے کو کس سیاسی راستے پر دھکیل دیا ہے، اور شام اور اس خطے کے مستقبل کی ازسرِ نو تشکیل اور خطے کے تمام عوام کو مغلوب و کمزور کرنے سے کون فائدہ اٹھا رہا ہے، وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب امتِ مسلمہ کسی بھی دور کے مقابلے میں اب قوت اور اتحاد کے وسائل کی بازیابی کے لیے سب سے زیادہ تڑپ رہی ہے؟
اس مسخ شدہ وجود کے ساتھ نارملائزیشن کے سفر کو روکنے اور غدار حکمرانوں کو ان کے جرائم پر کٹہرے میں لانے کا اس کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے کہ نبوت کے نقشِ قدم پر دوسری خلافتِ راشدہ قائم کی جائے، کیونکہ وہی اس یہودی وجود کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے گی، ارضِ مبارک کو آزاد کرائے گی اور اس گھر کو اس کے حقیقی وارثوں کے سپرد کرے گی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ﴾
"اور ہم یہ چاہتے تھے کہ ان لوگوں پر احسان کریں جنہیں زمین میں کمزور کر دیا گیا تھا، اور ہم انہیں پیشوا بنا دیں اور انہیں ہی وارث بنا دیں۔" (سورۃ القصص:آیت 5)
Latest from
- الرايہ کی متفرقات – شمارہ 615
- سعودی سودانی رابطہ کونسل: سوڈان کی تقسیم کی کڑیوں میں سے ایک کڑی
- روسی فوجی لاجسٹکس اور معیشت کے خلاف ایک نئی جنگ یا وسطی ایشیا کو روسی اثر و رسوخ سے الگ کرنے کی پالیسی؟
- یہ کوئی سفارتی ڈراما نہیں ہے۔خلافت کے لشکر مقبوضہ کشمیر کو آزاد کرائیں گے
- عسکری اتحاد:مغربی سازشیں اور مفادات