بسم الله الرحمن الرحيم
روسی فوجی لاجسٹکس اور معیشت کے خلاف ایک نئی جنگ یا وسطی ایشیا کو روسی اثر و رسوخ سے الگ کرنے کی پالیسی؟
تحریر: استاد اسلام ابو خلیل – ازبکستان
(ترجمہ)
جولائی اور اگست 2026ء کے مہینوں میں، یوکرینی ڈرونز نے روس میں "وائلڈ بیریز" (Wildberries) کمپنی کے لاجسٹکس گوداموں کو کئی بار نشانہ بنایا، جس سے اس کی وسیع لاجسٹک صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچا۔ یوکرین ان تنصیبات کو ایک ایسے نیٹ ورک کا حصہ سمجھتا ہے جس کے ذریعے روسی فوج کے لیے ڈرون کے پرزہ جات اور دیگر دوہرے استعمال (dual-use) کی اشیاء منتقل کی جاتی ہیں۔ ان حملوں سے 4 لاکھ سے زائد فروخت کنندگان (sellers) متاثر ہوئے ہیں۔ "ڈیٹا انسائٹس" (Data Insights) کے جائزوں کے مطابق، فروخت کنندگان کے نقصانات 445 سے 507.8 ارب روبل تک پہنچ سکتے ہیں، اور بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کی دوبارہ تعمیر پر 147 سے 223 ارب روبل لاگت آ سکتی ہے، جبکہ مجموعی نقصانات 600 سے 800 ارب روبل (7 سے 10 ارب ڈالر) کے درمیان ہو سکتے ہیں۔ یہ ماہرین کا ایک جائزہ ہے اور کوئی حتمی سرکاری تخمینہ نہیں ہے۔
یوکرین وائلڈ بیریز کو روسی فوجی سپلائی چین سے منسلک ایک تنصیب کے طور پر پیش کرتا ہے، جبکہ روس اسے بنیادی طور پر ایک سویلین ای-کامرس کمپنی سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ حملے نہ صرف فوجی سپلائی پر دباؤ ڈالتے ہیں، بلکہ اس سے لاکھوں چھوٹے کاروبار، لاجسٹکس اور روس کی اندرونی مارکیٹ بھی دباؤ کا شکار ہو رہی ہے۔ ان حملوں کی وضاحت روس کے لیے جنگی اخراجات بڑھانے اور اس کے معاشی انفراسٹرکچر کو کمزور کرنے کے مقصد سے کی جاتی ہے۔
لیکن سب سے اہم معاملہ وسطی ایشیا کا ہے؛ یوکرین کے حملے، روس میں لاجسٹک خطرات کا بڑھنا، وائلڈ بیریز کا متبادل صلاحیتوں کی تلاش اور قازقستان میں گوداموں کی بڑھتی ہوئی ضرورت، یہ سب مل کر علاقائی تجارت اور لاجسٹکس کی زنجیروں (سپلائی چینز) کو ازسرِنو تشکیل دے رہے ہیں۔
یہ رپورٹ ملی ہے کہ وائلڈ بیریز کمپنی قازقستان میں ایک لاکھ مربع میٹر سے شروع ہونے والی اسٹوریج کی جگہ تلاش کر رہی ہے اور الماتی اور آستانہ میں بڑے لاجسٹکس مراکز تعمیر کر رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ جنگ روس میں لڑی جا رہی ہے، لیکن اس کے معاشی اور لاجسٹک اثرات وسطی ایشیا میں بھی منتقل ہو سکتے ہیں۔
یہ وسطی ایشیا کے لیے بیک وقت ایک خطرہ اور موقع دونوں ہے: کیا یہ عمل خطے میں روس کے معاشی اثر و رسوخ کو کمزور کر دے گا، یا نئے انفراسٹرکچر کے ذریعے اسے مزید مضبوط کرے گا؟ چونکہ وائلڈ بیریز ایک روسی کمپنی ہے، اس لیے قازقستان اور وسطی ایشیا کے دیگر ممالک میں اس کا پھیلاؤ شاید روسی اثر و رسوخ کو ختم نہ کرے، بلکہ صرف اس کی شکل بدل دے۔
دوسری طرف، روس سے وابستہ تجارتی زنجیروں کا غیر مستحکم ہونا وسطی ایشیا کو بحیرہ خزر (کیسپین سی)، جنوبی قفقاز، ترکیہ اور یورپ کے راستوں کے قریب لا رہا ہے۔ یہ معروضی طور پر خطے کو روس پر انحصار سے باہر نکالنے کی مغربی حکمتِ عملی کے موافق ہے۔
اس لحاظ سے، یہ حملے روس کی اندرونی لاجسٹکس کے لیے خطرات کو بڑھاتے ہیں، اور روس اور وسطی ایشیا کے درمیان تجارتی زنجیروں میں دوبارہ تقسیم کو تیز کر سکتے ہیں۔ یہ اس مغربی حکمتِ عملی کے لیے سازگار حالات پیدا کرتا ہے جس کا مقصد خطے میں روس کے معاشی اثر و رسوخ کو کم کرنا ہے۔
روس کیا کرے گا؟ روس اس عمل کو خاموشی سے نہیں دیکھ رہا۔ پیوٹن نے حکم دیا ہے کہ ریاست کی شراکت داری سے متاثرہ گوداموں اور لاجسٹک انفراسٹرکچر کو دوبارہ تعمیر کیا جائے، اور انہیں ایک نئی تکنیکی سطح پر لایا جائے۔
اور روس کا ممکنہ ردعمل مرکزی بڑے گوداموں سے ہٹ کر علاقائی طور پر پھیلے ہوئے اور محفوظ لاجسٹک مراکز کے نیٹ ورک کی طرف منتقل ہونا ہے۔ قازقستان میں وائلڈ بیریز کمپنی کا پھیلاؤ ماسکو کو وسطی ایشیا میں اپنی لاجسٹک پوزیشن برقرار رکھنے کی اجازت بھی دیتا ہے۔ لیکن یہ عمل ایک اور سوال کھڑا کرتا ہے: وسطی ایشیا کے ممالک کس حد تک اپنے برآمد کنندگان (exporters) کو بیرونی منڈیوں کے خطرات سے بچا سکتے ہیں؟
اس تناظر میں، ازبکستان نے روس میں ہونے والے حملوں سے متاثر ہونے والے ازبک تاجروں کے معاوضے کے بارے میں اب تک کسی عوامی اقدام کا اعلان نہیں کیا ہے، اور نہ ہی روس سے کوئی مطالبہ کیا ہے۔ روس بھی اس موضوع پر خاموش ہے۔ بیرونی منڈیوں کے خطرات کو بانٹنے کے طریقہ کار کی عدم موجودگی میں، یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ برآمد کنندگان متبادل منڈیوں اور لاجسٹک راستوں کی تلاش پر مجبور ہو رہے ہیں۔
یہ ازبکستان کے سامنے ایک اہم سوال کھڑا کرتا ہے: مقامی اور غیر ملکی تاجر کس حد تک ریاست پر اپنے سامان، سرمائے اور سرمایہ کاری کے تحفظ کا بھروسہ کر سکتے ہیں؟ اس زاویے سے، ازبکستان کا سنگاپور کنونشن میں شامل ہونے کا ارادہ قابلِ توجہ ہے۔ وزارتِ انصاف نے 10 اگست 2026ء کو اس کا اعلان کیا تھا۔ یہ معاہدہ سرمایہ کاری یا منافع کی ضمانت نہیں دیتا، بلکہ ثالثی (میڈی ایشن) کے ذریعے بین الاقوامی تجارتی تنازعات کے تصفیے کے فیصلوں کو تسلیم کرنے اور ان کے نفاذ کے طریقہ کار کو مضبوط کرتا ہے۔ یہ ایک اضافی 'انشورنس' ہو سکتا ہے جو غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے تجارتی تنازعات میں قانونی خطرات کو کم کرتا ہے۔ لیکن سوال ابھی تک کھلا ہے: ایسے وقت میں جب غیر ملکی سرمائے کے لیے ضمانتیں مضبوط کی جا رہی ہیں، کیا مقامی کاروباری افراد کو بیرونی معاشی خطرات سے بچانے کے لیے بھی انہیں مضبوط کیا جا رہا ہے؟
وائلڈ بیریز پر حملے کا براہِ راست مقصد اگرچہ روسی لاجسٹکس اور معیشت کو نشانہ بنانا ہو سکتا ہے، لیکن اس کا بالواسطہ نتیجہ وسطی ایشیا میں روس سے جڑی تجارتی زنجیروں(supply chains) کو تبدیل کر سکتا ہے، اور خطے کو متبادل نقل و حمل اور تجارتی راستوں کے قریب لا سکتا ہے۔
اگرچہ ہم ابھی تک کھل کر یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ یہ وسطی ایشیا کو روسی اثر و رسوخ سے الگ کرنے کے مقصد سے کی جانے والی ایک خفیہ خصوصی کارروائی ہے، لیکن یہ عمل معروضی طور پر خطے میں روس کے معاشی اثر و رسوخ کو کم کرنے اور متبادل راہداریوں کو فروغ دینے کے امریکی مفادات کے موافق ہے۔
روس یوکرین جنگ اب صرف دونوں ممالک کی سرزمین تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس کی معاشی ضرب وسطی ایشیا کے تاجروں، لاجسٹکس اور نقل و حمل کی راہداریوں تک پہنچ چکی ہے۔ چنانچہ، اصل جغرافیائی سیاسی تصادم گوداموں پر نہیں ہے، بلکہ اس معاشی مرکز پر ہے جس سے وسطی ایشیا کے تجارتی بہاؤ کے سامان اور سرمائے منسلک ہوں گے۔
خلاصہ: کفر کے علمبرداروں کے درمیان جغرافیائی سیاسی تصادم کے سائے میں، وسطی ایشیا کے ہزاروں مسلمان معاشی اور زندگی کے محاذ پر متاثر ہو رہے ہیں۔ کاش ان کے حکمران ایک خود مختار پالیسی اپناتے اور روس یا مغرب پر تکیہ کرنے کے بجائے اللہ کے احکام پر بھروسہ کرتے، تو وہ اللہ کی مدد کے مستحق ٹھہرتے۔
کفار کی طاقتوں پر تکیہ کرنے کے نتائج صرف اس دنیا میں سیاسی اور معاشی محکومی تک محدود نہیں ہیں۔ بلکہ آخرت میں انسان سے اس کے انتخاب اور اعمال کا حساب لیا جائے گا، بالخصوص حکمرانوں سے۔ اور اب بھی وقت باقی ہے؛ اگر وہ اپنے رب کے حضور توبہ کر لیں، اس کے حکم کو مضبوطی سے تھام لیں، اور بیرونی طاقتوں کے مفادات پر مسلمانوں کے مفادات کو ترجیح دیں، تو وہ اللہ کے اذن سے عزت اور قوت حاصل کر لیں گے!
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَٰكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ﴾
"اور عزت تو اللہ ہی کے لیے ہے اور اس کے رسول کے لیے اور مومنوں کے لیے، لیکن منافق نہیں جانتے۔"(سورۃ المنافقون: آیت 8)