بسم الله الرحمن الرحيم
اداریہ
عسکری اتحاد:مغربی سازشیں اور مفادات
تحریر: استاد سعید رضوان ابو عواد (ابو عماد)
(ترجمہ)
اسلام میں نظامِ حکومت وحدانی نظام ہے، کوئی وفاق (اتحاد) نہیں؛ ایک ہی خلیفہ، ایک ہی فوج، ایک ہی بیت المال، اور ایک ہی دار (ملک) ہوتا ہے، اور اسلام میں قومی اور علاقائی ریاستوں کا کوئی وجود نہیں ہے۔ یہ ایک ہی امت ہے، جس کی صلح اور جنگ ایک ہی ہے۔ اور موجودہ قائم ریاستوں کے سائے میں عسکری اتحاد مسلم ممالک میں پھیلے ہوئے بکھراؤ کو مستحکم کرنے، کمزوری کی حالت کو برقرار رکھنے اور مغرب کے لیے ایک آماجگاہ فراہم کرنے کا ذریعہ ہیں، جس نے ان ممالک کو ان کے اپنے ہی باشندوں کے خون میں ڈبو دیا اور انہیں اپنے مفادات کی خدمت کے لیے استعمال کیا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "وَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ أَنْ يَكُونَ لِلْمُسْلِمِينَ أَمِيرَانِ، فَإِنَّهُ مَهْمَا يَكُنْ ذَلِكَ يَخْتَلِفْ أَمَرُهُمْ وَأَحْكامُهُمْ، وَتَتَفَرَّقْ جَمَاعَتُهُمْ، وَيَتَنَازَعُوا فِيمَا بَيْنَهُمْ، هُنَالِكَ تُتْرَكُ السُّنَّةُ، وَتَظْهَرُ الْبِدْعَةُ، وَتَعْظُمُ الْفِتْنَةُ، وَلَيْسَ لِأَحَدٍ عَلَى ذَلِكَ صَلَاحٌ" (اور مسلمانوں کے لیے یہ حلال نہیں ہے کہ ان کے دو امیر ہوں، کیونکہ جب بھی ایسا ہوگا، ان کے معاملات اور فیصلے مختلف ہو جائیں گے، ان کی جماعت بکھر جائے گی، اور وہ آپس میں جھگڑنے لگیں گے۔ ایسے میں سنت ترک کر دی جائے گی، بدعت ظاہر ہوگی، اور فتنہ بڑھ جائے گا، اور اس میں کسی کے لیے کوئی بھلائی نہیں ہوگی)۔
عسکری اتحاد بین الاقوامی تعلقات کے مرکز میں ہوتے ہیں، اور انہیں صحیح طور پر سمجھنے کے لیے بین الاقوامی صورتحال اور اس پر اثر انداز ہونے والے ممالک، اور ان ممالک کی حقیقت کو جاننا ضروری ہے: کیا وہ خود مختار فیصلہ ساز ہیں یا محض تابع ریاستیں ہیں جو بیرونی اشاروں پر چلتی ہیں؟
عسکری اتحاد دو یا دو سے زیادہ ممالک کے درمیان ایسے معاہدے ہوتے ہیں جن میں وہ ایک مشترکہ دشمن کا مقابلہ کرنے کا عہد کرتے ہیں؛ اس کی مثال اسلامی ریاست کے خلاف صلیبی جنگوں میں عیسائی اقوام کا اتحاد، عالمی جنگ میں جرمنی کے خلاف یورپی ممالک کا اتحاد، اور امریکہ کی قیادت میں نیٹو کے مقابلے میں سوویت یونین کی قیادت میں وارسا معاہدہ (حلف وارسا) ہے۔
تو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے اس سہ فریقی عسکری اتحاد کی حقیقت کیا ہے؟ اور مشترکہ دشمن کون ہے؟ اور کیا یہ مسلمانوں کے مسائل کی حمایت کے لیے ہے؟
ترکیہ امریکہ کی قیادت میں نیٹو کا رکن ہے، اور وہ کسی ایسے اتحاد کے خلاف جنگ نہیں لڑ سکتا جس کا وہ خود حصہ ہے، اور نہ ہی وہ امریکہ کے مفادات کو خطرے میں ڈال سکتا ہے؛ اور اس کے یہودی وجود کے ساتھ تعلقات پرانے اور مضبوط ہیں، جو غزہ میں نسل کشی کی جنگ یا شام اور لبنان پر جارحیت سے باضابطہ طور پر متاثر نہیں ہوئے۔ جہاں تک سعودی عرب کا تعلق ہے، تو وہ مسلمانوں کے خلاف امریکی جنگ کا بنیادی مالی معاون ہے، اور امریکی اڈے اس کی سرزمین پر موجود ہیں اور وہیں سے ان پر جارحیت کے لیے کارروائیاں کرتے ہیں۔ اور جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے، تو امریکہ کے لیے اس کی تابعداری دوپہر کے سورج کی طرح واضح ہے۔
جہاں تک مسلمانوں کے مسائل کا تعلق ہے: تو فلسطین تقریباً اسی سال سے غاصبانہ قبضے میں ہے، اور مسجدِ اقصیٰ—جو مسلمانوں کا قبلہ اول اور رسول اللہ ﷺ کی جائے اسرا ہے—ساٹھ سال سے اسیر ہے۔ بھارت اور کشمیر میں ہندوؤں کے جرائم، اور چین مسلمانوں کے ساتھ جو سلوک کر رہا ہے وہ سب کے سامنے عیاں ہے۔ غزہ میں نسل کشی کی جنگ مسلسل جاری ہے، مغربی کنارے میں آباد کاروں کی غنڈہ گردی جاری ہے، لبنان میں اس کے لوگوں کا قتل، اس کے شہروں کی تباہی اور اس کے دیہاتوں کو زمین کے برابر کرنا قائم ہے، شام پر مسلسل حملے اور اس کے علاقوں پر غاصبانہ قبضہ جاری ہے، اور اس سے پہلے بشار حکومت کے جرائم ہیں جس نے امریکی حمایت اور روس، ایران اور اس کی ملیشیاؤں کی شراکت سے شام کے دس لاکھ سے زائد لوگوں کو قتل کیا اور اس کی آدھی آبادی کو بے گھر کر دیا۔
یہ سب کچھ ہونے کے باوجود ہم نے فلسطین، شام، لبنان، کشمیر، ترکستان اور دیگر مقامات پر مسلمانوں کے مسائل کی حمایت کے لیے کوئی اتحاد قائم ہوتے نہیں دیکھا؛ تو پھر اس اتحاد کی اصل حقیقت کیا ہے؟
امریکی صدر نے اس اتحاد کے قیام پر اپنی خوشی کا اظہار کیا، اور ریپبلکن رکنِ کانگریس جو ولسن نے واضح کیا کہ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان مشترکہ دفاع کا معاہدہ وجود میں لانے کا سہرا صدر ٹرمپ کے سر جاتا ہے۔ جہاں تک ترکی کی اپوزیشن کا تعلق ہے تو انہوں نے کہا: "ہم ترک فوج کو دوسروں کی جنگوں میں ڈھال نہیں بنائیں گے، اور نہ ہی ترکی کو ایک عسکری ٹھیکیدار اور خطے کے تنازعات کا فریق بننے کی اجازت دیں گے۔" مزید یہ کہ امریکی ایلچی خطے سے جدا نہیں ہوتے، وہ احکامات دیتے ہیں اور ہر چھوٹی بڑی بات پر عمل درآمد کی نگرانی کرتے ہیں، جو اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ یہ اتحاد امریکی حکم پر عمل میں لایا گیا ہے۔
تو وہ کیا بات ہے جس نے امریکہ کو اس اتحاد کی تشکیل پر ابھارا؟ امریکہ اندرونی اور بیرونی سطح پر گہرے اسٹریٹجک بحرانوں کا شکار ہے:
• ایک شدید سیاسی تقسیم جس کے نتیجے میں صدر ٹرمپ اقتدار میں آئے، جنہوں نے امریکہ کو دنیا میں تمخر (مذاق) کا نشانہ بنایا، اور ان کی کامیابی ان کے حامیوں کی جانب سے کیپیٹل بلڈنگ پر دھاوے کے بعد خانہ جنگی سے بچنے کا ایک راستہ تھی۔
• ایک بھاری قرضہ جو چالیس ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، اور ڈالر کی حیثیت اور مالیاتی منتقلی کے اس نظام کے لیے متعدد معاشی خطرات کا باعث بن رہا ہے جسے امریکہ کنٹرول کرتا ہے۔
• ایپسٹین اسکینڈلز جنہوں نے ریاستی اداروں اور سیاست دانوں پر اعتماد کو ٹھیس پہنچائی۔
• غزہ میں یہودیوں کے جرائم اور ان کے نتیجے میں عالمی رائے عامہ میں آنے والی بڑی تبدیلی جس نے امریکہ اور یہودی وجود کو عالمی سطح پر اچھوت ریاستیں بنا دیا ہے۔
• ایران کے خلاف جنگ اور عسکری برتری، فضائی حملوں اور دفاعی میزائلوں کے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہنے کے نتیجے میں اس جنگ کا فیصلہ کرنے میں امریکہ کی ناکامی۔
• جنگ کی مدت کا غلط تخمینہ اور عالمی معیشت پر اس کے اثرات اور اس حوالے سے دنیا کے ممالک کا مؤقف۔
• امریکی ہتھیاروں اور گولہ بارود کا انتہائی تشویشناک حد تک ختم ہو جانا۔
• جنگ کے بھاری اخراجات کے باعث دفاعی بجٹ کا نچڑ جانا، اور فوجی اڈوں میں ہونے والی تباہی، جو امریکی عسکری موجودگی اور اس کے فوجی اڈوں کے پھیلاؤ پر نظرثانی پر مجبور کرے گی جو اب کھلے خطرے کی زد میں آ چکے ہیں۔
اور امریکی جریدے 'فورن افیئرز' کے ایک طویل مضمون میں جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں سیاسیات اور بین الاقوامی امور کے پروفیسر مارک لنچ نے یہ پیش گوئی کی ہے کہ وہ امریکی مشرقِ وسطیٰ کو اسی طرح نابود ہوتے ہوئے دیکھیں گے جیسے اس سے پہلے یورپی سلطنتیں نابود ہو گئی تھیں۔
خلاصہ کلام یہ کہ امریکہ کی ناکامی اور دنیا میں اس کے اثر و رسوخ، اس کے بین الاقوامی نظام اور اداروں، اور اس کے بحر اوقیانوس کے اتحاد (نیٹو) پر پڑنے والے اثرات نے اسے 'پیچھے سے قیادت کرنے' (لیڈنگ فرام بیہائنڈ) کی حکمتِ عملی اپنانے اور خطے میں اپنے مہروں (آلات) میں کردار تقسیم کرنے پر مجبور کیا تاکہ وہ اپنے مقاصد حاصل کر سکے:
- اپنے اثر و رسوخ کے تحت خطے کے استحکام کو برقرار رکھنا۔
- اپنے مفادات کا تحفظ، جس میں سب سے اہم یہودی وجود کی حفاظت اور اسے خطے میں ایک نارمل (قدرتی) حصے کے طور پر قائم کرنا ہے۔
- ایران پر دباؤ ڈالنا تاکہ اسے اپنی پالیسیوں کے مطابق ڈھالا جا سکے اور اسے اپنے تابع بنایا جا سکے۔
- چین کے عروج کو روکنا اور سپلائی چین اور توانائی کے ذرائع پر کنٹرول حاصل کرنا۔
- دنیا کے تمام ممالک بشمول یورپی ممالک کو امریکہ کی مرضی کے تابع کرنا۔
- اور ان سب سے خطرناک مقصد—جو یہودی وجود اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے وجود کے لیے ایک بقائی (وجودی) خطرہ ہے—وہ اسلام ہے، جو خطے کے عوام میں کسی بھی وقت ایک اچانک دھماکے کی طرح پھٹنے کے قریب ہے، بالکل اسی طرح جیسے اس نے دنیا کو 'عرب بہار' کے ابھار سے حیران کر دیا تھا، جس کا سبب ایک گمنام گوشے میں ایک شخص کا اقدام تھا، جس نے پورے خطے کو بھڑکا دیا، جابروں اور تانشاہوں کو گرا دیا، اور مغرب نے خلافتِ عثمانیہ کو ڈھانے کے بعد سے جو کچھ بھی بنایا تھا، اس سب کو نیست و نابود کرنے کے قریب پہنچ گیا تھا۔
امتِ مسلمہ زندہ ہے اور کبھی فنا نہیں ہوگی، اور وہ اس روحانی طاقت اور عسکری نظریے کے بل بوتے پر تبدیلی لانے کی اہل ہے جو وہ اپنے اندر رکھتی ہے، اور ان صلاحیتوں، اور ان اہم اسٹریٹجک مقامات اور بے پناہ وسائل کے ذریعے جو اللہ نے اسے عطا کیے ہیں جو دوسری کسی قوم کو حاصل نہیں ہیں۔ اور مغرب اور یہودی وجود کا قائم رہنا ان حکمرانوں کے مرہونِ منت ہے جو ان کے استعماری مہرے ہیں۔ اور امتِ مسلمہ آج جنگ کے دہکتے تنور (بھٹی) میں ہے اور وہ اس سے اللہ کے حکم سے فتح یاب ہو کر ہی نکلے گی، اور مغرب نے اللہ، انسانی فطرت اور انسانیت کے خلاف جنگ کا جو دروازہ کھولا ہے، وہ اس کی عبرتناک شکست کے بغیر اب بند نہیں ہوگا۔﴿وَاللَّهُ غَالِبٌ عَلَىٰ أَمْرِهِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ﴾ "اور اللہ اپنے معاملے پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔" (سورۃ یوسف: 21)
Latest from
- الرايہ کی متفرقات – شمارہ 615
- ابو الظہور: کیا اعلانیہ تصادم ، نارملائزیشن کی طرف لے جا رہا ہے؟
- سعودی سودانی رابطہ کونسل: سوڈان کی تقسیم کی کڑیوں میں سے ایک کڑی
- روسی فوجی لاجسٹکس اور معیشت کے خلاف ایک نئی جنگ یا وسطی ایشیا کو روسی اثر و رسوخ سے الگ کرنے کی پالیسی؟
- یہ کوئی سفارتی ڈراما نہیں ہے۔خلافت کے لشکر مقبوضہ کشمیر کو آزاد کرائیں گے