Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

کیا ایک نیا عالمی نظام تشکیل پانا شروع ہو گیا ہے؟

تحریر: استاد اسعد منصور

(ترجمہ)

 

بین الاقوامی تعلقات میں پوری تاریخ کے دوران یہ ایک فطری بات رہی ہے کہ پہلی پوزیشن کے مقام کے لیے رسہ کشی جاری رہے، اور جو بھی اس نشست پر متمکن ہوتا ہے، اسے اس کی طمع رکھنے والے دوسروں کی مسابقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

 

اور یہ معاملہ اسی فطری انداز میں آگے بڑھتا رہا، یہاں تک کہ سال 1991 میں سوویت یونین کا زوال ہو گیا، جو امریکہ کا بنیادی حریف تھا، جس نے دوسری جنگِ عظیم کے بعد پہلی پوزیشن کی نشست حاصل کی تھی اور بین الاقوامی منظرنامے پر تنہا اجارہ داری قائم کر لی تھی۔ چنانچہ سوویت یونین کے وارث روس نے یلسن کی قیادت میں امریکہ کی مسابقت کے لیے کام نہیں کیا، بلکہ اس نے اس کا شراکت دار بننے اور ایک ایسی بڑی طاقت کے طور پر برقرار رہنے کے لیے کام کیا جو سوویت اثر و رسوخ کے علاقوں کا تحفظ کرے، یہاں تک کہ سال 1999 میں پیوٹن اس کے سربراہ بنے، جنہوں نے اس پالیسی کو جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ یورپ کے ساتھ مل کر کام کرنے کی پالیسی اپنائی، جب فرانس اور جرمنی نے ان سے قربت اختیار کی اور برطانیہ کی خفیہ شہ پر سال 2003 میں عراق پر امریکی قبضے کے خلاف ایک مخالف محور قائم کیا۔

 

کیونکہ یورپ سوویت یونین کے زوال کے بعد امریکہ کا مقابلہ نہ کر سکا، اگرچہ اس نے کوشش کی تھی، چنانچہ اس نے سال 1991 میں یورپی یونین تشکیل دی، اور بلقان اور مشرقِ وسطیٰ کے بحرانوں میں ایک فعال کردار ادا کرنے کی کوشش کی، اور پھر امریکی ڈالر کا مقابلہ کرنے کے لیے سال 2001 میں اپنی کرنسی یورو جاری کی۔

 

لیکن جب پیوٹن نے روس کے اثر و رسوخ کے علاقوں میں نیٹو کو نہ پھیلانے کی مفاہمتوں سے متعلق امریکی وعدہ خلافی کو دیکھا، تو انہوں نے عالمی مالیاتی بحران اور عراق و افغانستان میں کامیابی حاصل کرنے میں ناکامی اور وہاں سے انخلا کی تیاری کے باعث سال 2008 میں امریکہ کی متزلزل صورتحال کا فائدہ اٹھایا۔ چنانچہ انہوں نے ابخازیہ اور جنوبی اوسیشیا پر قبضہ کر کے انہیں جارجیا سے چھین لیا، جہاں امریکہ اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے اور روس کے اثر و رسوخ کو ختم کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ اور سال 2014 میں انہوں نے کریمیا پر قبضہ کر لیا جب امریکہ نے یوکرین میں روس کے آلہ کاروں کا تختہ الٹ دیا تھا۔

 

اس کے باوجود روس نے امریکہ کی پوزیشن کو چیلنج نہیں کیا اور اس کے شراکت دار کے طور پر اپنی پالیسی پر قائم رہا۔ چنانچہ اس نے سال 2015 میں امریکہ کے ساتھ مفاہمت کی بنیاد پر شام میں مداخلت کی، جو شامی انقلاب کو کچلنا اور اپنے آلہ کار بشار کا تحفظ کرنا چاہتا تھا جب تک کہ وہ اس کا متبادل نہ لے آئے۔

 

اور اسی دوران روس نے یورپ کے ساتھ مل کر کام کرنا جاری رکھا، جس نے منسک معاہدے 2015 کے ذریعے مشرقی روس کے معاملے پر اس کے ساتھ مفاہمت کی اور کریمیا سے چشم پوشی اختیار کر لی۔ جہاں دونوں فریق امریکہ کے یکطرفہ تسلط کے مقابلے میں بین الاقوامی منظر نامے پر اپنی پوزیشن کو مضبوط کرنے کے لیے ایک دوسرے سے تقویت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

 

اور روس اور یورپ دونوں نے، اپنے اپنے انداز میں، چین کے ساتھ مفاہمت کے ذریعے اپنی بین الاقوامی پوزیشن کو مضبوط کرنے کی کوشش کی، جسے امریکہ قابو کرنے اور جاپان کی طرح اپنے مدار میں گھومنے والی ریاست بنانے میں ناکام رہا تھا۔ یوں تین آزاد قوتیں ابھر کر سامنے آئیں، جن میں سے ہر ایک دوسرے کے تعاون سے اپنی بین الاقوامی پوزیشن کو مضبوط کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔

 

جب امریکہ نے یہ صورتحال دیکھی تو اس نے ان قوتوں کے تعاون کو پارہ پارہ کرنے اور انہیں ایک دوسرے سے دور کرنے کا ارادہ کیا تاکہ وہ ان میں سے ہر ایک سے انفرادی طور پر نمٹ سکے، چنانچہ اس نے روس کو اکسا کر یوکرین جنگ بھڑکائی تاکہ وہ سال 2022 میں اس کے مشرقی حصے پر قبضہ کر لے، جس کے نتیجے میں وہ روس اور یورپ کو ایک دوسرے سے دور کرنے میں کامیاب ہو گیا، اور روس اور چین کے درمیان کسی بھی ممکنہ اتحاد کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کر دی، اور چین کو اس کے اپنے ہی خطے کے ممالک کے ساتھ تنازعات میں الجھا دیا، اور ان میں سے بعض کے ساتھ سیکیورٹی معاہدے دستخط کیے اور اپنے فوجی اڈوں کو مضبوط کیا، اور اس کے خلاف معاشی جنگ شروع کر دی، اور تائیوان کو اپنے ساتھ ضم کرنے کی صورت میں اسے براہِ راست اور جاپان کے ذریعے دھمکی دی۔

 

اور اس طرح امریکہ نے بین الاقوامی منظرنامے پر اپنی اجارہ داری برقرار رکھی، اور اسے مزید مستحکم کرنے کے لیے اس نے پاناما اور وینزویلا پر اپنا تسلط قائم کر دیا تاکہ وہاں روس اور چین کی سرگرمیوں کو محدود کیا جا سکے۔ مزید برآں، اس نے کینیڈا کے خلاف ایک مہم چلائی اور اسے اپنے ساتھ ملانے کا مطالبہ کیا، اور جزیرہ گرین لینڈ پر قبضہ حاصل کرنے کے لیے یورپ کے خلاف بھی مہم شروع کر دی۔

 

اور 28 فروری 2026 سے اس نے ایران کے خلاف جنگ چھیڑ دی، جو اس کے زیرِ اثر تھا، تاکہ اسے ایک تابع ریاست بنا سکے، اور روس کے سامنے اپنی للکار کو ظاہر کرے جس نے ایران کے ساتھ کھڑے ہونے کی جرات نہیں کی، اور چین کے سامنے بھی جو اسے چیلنج کرنے کی جرات نہیں رکھتا، جبکہ ایران نے ان دونوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط کیا تھا اور ان کی معاشی تنظیم 'برکس' میں شامل ہو گیا تھا۔

 

اگر امریکہ ایران کے معاملے میں اپنا ہدف حاصل کر لیتا تو اس کی پوزیشن انتہائی مضبوط ہو جاتی، اور بین الاقوامی منظرنامے پر اس کی تنہا اجارہ داری پکی ہو جاتی، اور وہ روس اور چین پر چڑھائی کرنا شروع کر دیتا، اور گرین لینڈ اور کینیڈا پر اپنا تسلط قائم کرنے کے لیے آگے بڑھتا۔ لیکن ایران کی استقامت نے اس کی تمام کوششوں میں رکاوٹیں ڈال دیں، بلکہ اس کی بین الاقوامی پوزیشن کو ہلا کر رکھ دیا اور روس، چین اور یورپ کو اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا حوصلہ دیا۔

 

اور اسی لیے روس نے اپنے وزیر خارجہ لافروف کی زبانی، 18 اگست 2026 کو شمالی کوریا کی اپنی ہم منصب چو سون کے ساتھ ملاقات کے دوران اعلان کیا کہ "دونوں ممالک ایک نئے اور منصفانہ عالمی نظام کے قیام کے لیے کام کر رہے ہیں"۔ اور پیانگ یانگ نے دونوں ممالک کے مابین اسٹریٹجک اتحاد کے تحت گزشتہ سال روسی علاقے سے یوکرینی افواج کو نکال باہر کرنے میں ماسکو کی مدد کی تھی۔ چنانچہ روس اس اتحاد کو مضبوط کرنے پر کام کر رہا ہے تاکہ خود کو ایک ایسے عالمی قطب کے طور پر پیش کرے جس کے اتحادی ہیں، اور وہ شمالی کوریا سے مزید فوجی مدد کا خواہاں ہے۔ اسی لیے یوکرینی انٹیلیجنس نے 22 اگست 2026 کو امریکی نیوز نیٹ ورک 'سی این این' کے سامنے یہ انکشاف کیا کہ "شمالی کوریا نے روس کے لیے تقریباً 8500 فوجیوں پر مشتمل نئی کمک روانہ کی ہے، جس میں ڈرون طیاروں کی ایک خصوصی یونٹ بھی شامل ہے جو یوکرین کی گہرائی میں اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے"۔

چنانچہ روس کو شمالی کوریا کی مدد کی ضرورت ہے، جو کہ عالمی سطح پر کوئی بڑا کردار ادا کرنے کی سکت نہیں رکھتی، اور روس کو اس کے سوا کوئی اور اتحادی نہیں ملا۔ وہ خود یوکرین میں مشکلات کا شکار ہے اور اب تک کامیابی حاصل نہیں کر سکا، چنانچہ اس کے صدر پیوٹن نے 27 جولائی 2026 کو روسی پارلیمنٹ "ڈوما" کے سامنے خطاب کرتے ہوئے اسی طرف اشارہ کیا کہ: "روس ایک نئے عالمی نظام کی تشکیل کے تناظر میں ایک تقدیر ساز اور فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہا ہے"۔ اگر روس نئے عالمی نظام کے قیام کے لیے خود پر پراعتماد ہوتا، تو وہ ایران کی براہِ راست حمایت کا اعلان کرتا، اور پاناما اور وینزویلا میں کھل کر امریکہ کا مقابلہ کرتا۔

 

اور فرانس بھی یورپ کے ساتھ مل کر اب تک کوئی عالمی قطب تشکیل دینے میں ناکام رہا ہے، چنانچہ اس کے صدر ماکرون نے 13 جون 2026 کو کہا: "دنیا مشترکہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری میں گراوٹ، اور زبردستی کی پالیسیوں اور معلوماتی جنگوں میں اضافے کی شاہد بن رہی ہے، جس نے بین الاقوامی نظام کو ایک کٹھن امتحان کے سامنے لا کھڑا کیا ہے"۔

اور جرمنی نے بھی اس موضوع پر تبصرہ کیا جب اس کے چانسلر میرٹس نے 13 فروری 2026 کو میونخ سیکورٹی کانفرنس میں کہا: "یہ عالمی نظام اب اس شکل میں موجود نہیں رہا جیسا کہ ہم اسے جانتے تھے... امریکہ کا قائدانہ کردار چیلنج کا شکار ہے اور شاید اس میں زوال آ رہا ہے"۔ انہوں نے "بڑی طاقتوں کے مابین دوبارہ تصادم شروع ہونے"، "روس کے پرتشدد ترمیم پسندانہ رویے، اور عالمی نظام کی تشکیل کی قیادت حاصل کرنے کے لیے چین کی کوششوں"، اور "یورپی نیوکلیائی سدِراہ (ڈیٹرنس) کے قیام اور یورپ کی فوجی، سیاسی، معاشی اور تکنیکی طاقت کو مضبوط بنانے کے لیے فرانس کے ساتھ مل کر جرمنی کے اقدامات" کا تذکرہ کیا، اور کہا کہ "یورپ ابھی ابھی تاریخ کی ایک طویل چھٹی سے واپس لوٹا ہے"۔ انہوں نے یہ بھی کہا: "اس نئے عالمی نظام میں اپنی طاقت اور دانشمندی کو بروئے کار لانے کی ذمہ داری ہمارے اوپر عائد ہوتی ہے"۔

 

چنانچہ جرمنی یہ دیکھ رہا ہے کہ نیا نظام تشکیل پانا شروع ہو گیا ہے۔ یورپ، روس اور چین میں سے ہر کوئی اپنے اپنے طریقے سے اس عالمی نظام کے قواعد و ضوابط وضع کرنے کے لیے متحرک ہے۔ لیکن ان قوتوں نے ابھی تک امریکہ کا مقابلہ کرنے کے لیے کوئی جرات مندانہ اقدام نہیں اٹھایا، جو بین الاقوامی منظرنامے پر اپنے یکطرفہ تسلط پر ڈٹا ہوا ہے، اور ان قوتوں کے عزائم کی راہ میں حائل ہے اور ان پر اپنا غلبہ برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

 

 

اور بظاہر یہ صورتحال کچھ وقت کے لیے اسی طرح برقرار رہے گی، تاہم ایک ایسی قوت متحرک ہے جو نیا عالمی نظام تشکیل دینے والی ہے، اور وہ امتِ مسلمہ کی قوت ہے، اگرچہ اس کے خلاف انتہائی شدید سازشیں کی جا رہی ہیں تاکہ اسے اپنی ریاست کو دوبارہ قائم کرنے سے روکا جا سکے، جس نے بغیر کسی حریف کے نو صدیوں تک اور حریفوں کی موجودگی میں چار صدیوں تک پہلی پوزیشن کا منصب حاصل کیے رکھا تھا۔ لیکن اس کے مخلص فرزند اسے نبوت کے نقشِ قدم پر قائم خلافتِ راشدہ کے طور پر دوبارہ قائم کرنے کے لیے سنجیدگی سے کوشاں ہیں۔

 

Last modified onہفتہ, 05 ستمبر 2026 05:20

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.