Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

 

سہ فریقی مغاربی سیکورٹی ہم آہنگی

 

کیا یہ استعماری حفاظتی مداخلتوں کے سامنے پائیدار ثابت ہوگی؟

 

 

تحریر: استاد یاسین بن یحییٰ

 

(ترجمہ)

 

ایک ایسے علاقائی منظرنامے میں جہاں ساحل کے بڑھتے ہوئے خطرات، نیٹو اتحاد میں پڑنے والی دراڑوں اور امریکی ترجیحات میں تبدیلی کا سنگم ہو رہا ہے، وہاں تیونس، لیبیا اور الجزائر کے درمیان سہ فریقی سیکورٹی تعاون ایک ایسے سٹریٹیجک خلا کو پر کرنے کی سعی کے طور پر ابھررہا ہے جس کے آثار روایتی سیکورٹی ڈھانچوں پر کم ہوتے بھروسے کے ساتھ ہی نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

 

تین ملکی تعاون.. مشترکہ سیکورٹی کی جانب ایک مغاربی پیش رفت

 

16 جون 2026 کو لیبیا کے دارالحکومت طرابلس نے لیبیا، الجزائر اور تیونس کی اس ورکنگ ٹیم کے دوسرے اجلاس کی میزبانی کی جسے مشترکہ سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ یہ ٹیم جنوری 2025 میں تینوں ممالک کے وزرائے داخلہ کے درمیان ہونے والے ایک معاہدے کے تحت تشکیل دی گئی تھی۔ یہ ملاقات محض ایک رسمی  اجلاس نہیں تھا، بلکہ یہ اس سہ فریقی سیاسی عزم کا عکاس تھا جس کی بنیاد اس ادراک پر ہے کہ سرحد پار سے ابھرنے والے خطرات،خواہ وہ اشیاء اور انسانوں کی اسمگلنگ ہو، یا منظم جرائم اور دہشت گردی کے نیٹ ورکس کا پھیلاؤ، یا بحیرہ روم کے جنوبی کنارے پر اپنی سرحدوں کو منتقل کرنے کی یورپی حکمت عملی، ان تمام چیلنجز کا مقابلہ مشترکہ میدانی ہم آہنگی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

 

اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ دوسرے اجلاس کے انعقاد کے لیے طرابلس کا انتخاب ایک واضح سیاسی پیغام کا حامل ہے: کہ لیبیا کا دارالحکومت داخلی منظرنامے کی نازک صورتحال کے باوجود اب بھی علاقائی تعاون کے لیے ایک پلیٹ فارم بننے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور یہ کہ سلامتی کے امور کو ریاست کے تسلیم شدہ اداروں کے ذریعے منظم کیا جا سکتا ہے۔

 

نیٹو کی ٹوٹ پھوٹ کے سائے میں.... متبادل کی تلاش میں ایک سٹریٹیجک خلا

 

اس سہ فریقی تعاون کو جو چیز گہرا جیو پولیٹیکل رخ عطا کرتی ہے، وہ ایک پرآشوب بین الاقوامی تناظر ہے جس میں یہ عمل وجود میں آیا ہے۔ امریکہ اور نیٹو میں شامل اس کے یورپی اتحادیوں کے درمیان تعلقات غیر معمولی تناؤ کا شکار ہیں، جس میں یورپ میں امریکی فوجی وابستگی کو کم کرنے کی بار بار کی دھمکیاں اور یورپی اتحادیوں پر اپنا دفاعی بوجھ نہ اٹھانے کے امریکی الزامات شامل ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کے بارے میں متحد موقف اپنانے میں ہچکچاہٹ پر نیٹو اتحادیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اس کا واضح اظہار کیا، جو کہ مغربی اتحاد کے اندر بڑھتی ہوئی دراڑ کا پیش خیمہ ہے۔

 

یہ ٹوٹ پھوٹ افریقہ پر اثرات مرتب کیے بغیر نہیں رہی۔ نیٹو کے ایک جامع حفاظتی فریم ورک کے طور پر کمزور پڑتے ہوئے کردار کے ساتھ ہی، واشنگٹن نے متبادل علاقائی شراکت داروں کی تلاش شروع کر دی ہے، جو شمالی افریقہ میں امریکہ کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کی جزوی وضاحت کرتا ہے۔ جیسا کہ تجزیوں سے ظاہر ہوتا ہے، امریکہ اور اس کے نیٹو اتحادیوں کے درمیان حالیہ کشیدگی اس حقیقت کی یاد دہانی کراتی ہے کہ افریقی سلامتی کا مکمل انحصار دور دراز کی قوتوں پر نہیں کیا جا سکتا، بلکہ تنازعات کے حل اور اقتصادی تعاون کے لیے ایک زیادہ مستحکم ڈھانچہ فراہم کرنے کی خاطر براعظمی اداروں کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔

 

حساب کتاب اور تضادات کے درمیان امریکی مفادات

 

خطے میں امریکہ کی دلچسپی کوئی نئی بات نہیں ہے، لیکن شمالی افریقہ میں اثر و رسوخ کے لیے بڑھتے ہوئے بین الاقوامی مقابلے، خاص طور پر امریکہ اور یورپ کے مابین کھینچ تان، اور روس و چین کے بڑھتے ہوئے کردار کے سبب اس میں نئی شدت پیدا ہوئی ہے۔ یہ تحرک تیونس کی جانب تیز تر امریکی سفارتی سرگرمیوں سے نمایاں ہے، جو کہ اب واشنگٹن کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے جس کی وجوہات سیکورٹی، سیاسی اور سٹریٹیجک بنیادوں پر ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔

 

تیونس، جسے 2015 سے نیٹو سے باہر ایک اہم اتحادی کا درجہ حاصل ہے، خاص طور پر بحری میدان میں بڑھتا ہوا علاقائی کردار ادا کرنے کی تگ و دو کر رہا ہے، اور وہ علاقائی فوجی تعاون کے لیے ایک مرکز بننے کا خواہاں ہے۔ اس کی جھلک جون 2026 میں یورپ اور افریقہ میں امریکی بحری افواج کے کمانڈر کے دورہ تیونس میں دیکھنے کو ملی، جہاں بات چیت کا محور بحیرہ روم میں بحری تعاون تھا۔

 

تاہم، الجزائر کے بارے میں امریکہ کا موقف سب سے زیادہ پیچیدہ ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں الجزائر کے تجربے کے اعتراف کے باوجود، واشنگٹن اس کے ساتھ انتہائی احتیاط برتتا ہے، جس کی وجہ الجزائر کے روس اور چین کے ساتھ قریبی تعلقات اور حساس علاقائی مسائل پر اس کا جداگانہ موقف ہے۔ واشنگٹن ایک دوہری حکمت عملی پر عمل پیرا ہے: یعنی الجزائر کے سیکورٹی تجربے سے فائدہ اٹھانا، اور اسے مغرب کے ساتھ مکمل اتحاد کی طرف دھکیلے بغیر غیر جانبداری کے دائرے میں رکھنا۔

 

جہاں تک لیبیا کا تعلق ہے، تو وہ واشنگٹن کے لیے شمالی افریقہ میں سلامتی کی کلید ہے، جہاں اس کے سیاسی استحکام کو کسی بھی حقیقی سرحدی تحفظ کے لیے بنیادی شرط سمجھا جاتا ہے۔ واشنگٹن نے لیبیا کے مختلف فریقین کے مابین موقف میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے سفارتی اقدامات شروع کیے ہیں، تاکہ اداروں کو متحد کرنے اور مؤثر سیکورٹی تعاون کے لیے زمین ہموار کی جا سکے۔

 

ایک آزاد مغاربی وژن کی جانب

 

ان تبدیلیوں کے بیچ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ: کیا مغاربی ممالک بیرونی حکمت عملیوں کو محض قبول کرنے تک محدود رہیں گے، یا وہ ایک آزادانہ حفاظتی وژن کی تشکیل کے لیے کوشاں ہوں گے؟ تیونس، لیبیا اور الجزائر کے درمیان سہ فریقی تعاون درست سمت میں ایک قدم ہے، لیکن یہ اس وقت تک ادھورا رہے گا جب تک کہ اسے خطے کے دیگر ممالک پر مشتمل ایک وسیع تر وژن کے ذریعے پایہ تکمیل تک نہیں پہنچایا جاتا۔

 

شمالی افریقہ کو ساحل کی بدامنی سے لے کر غیر قانونی ہجرت اور منظم جرائم تک جن چیلنجز کا سامنا ہے، وہ استعمار کی کھینچی ہوئی مصنوعی سرحدوں کو تسلیم نہیں کرتے، اور نہ ہی وہ دور دراز کے دارالحکومتوں سے آنے والے حل کے منتظر رہتے ہیں۔ بحر اوقیانوس کے پار (ٹرانس اٹلانٹک) تعلقات میں آنے والی دراڑیں اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ علاقائی سلامتی کے انتظام کے لیے دوسروں پر تکیہ کرنا، اس کے شرعی گناہ ہونے کے ساتھ ساتھ، اب کوئی طویل مدتی سٹریٹیجک انتخاب نہیں رہا، بلکہ یہ خطرات سے گھرا ہوا ایک جوا بن چکا ہے۔

 

اسی لیے، ایک مشترکہ اور آزاد وژن کی پکار محض ایک سیاسی نعرہ نہیں ہے، بلکہ ایک شرعی فریضہ اور سیکورٹی، معاشی و وجودی ضرورت ہے۔ مغربِ عربی (مراکش) اپنے مرکزی جغرافیائی محل وقوع اور انسانی و قدرتی وسائل کی بدولت ایک ایسے علاقائی سیکورٹی نظام کی تعمیر کے قابل ہے جو اس کی سرحدوں کی حفاظت کرے اور اس کی خودمختاری کا تحفظ یقینی بنائے؛ ان استعماری منصوبوں سے الگ رہ کر جنہوں نے دہائیوں تک اس خطے کو محض ایک سیکورٹی بیریئر یا بین الاقوامی رسہ کشی کے میدان تک محدود کر رکھا تھا۔

 

چنانچہ، یہ چیلنج نہ تو امریکی ہے اور نہ ہی یورپی؛ یہ خالصتاً مغاربی چیلنج ہے، جس کا آغاز امت کے شعور اور اس کے صاحبِ قوت افراد کی جانب سے اس تاریخی لمحے کی اہمیت کو بھانپنے سے ہو گا تاکہ ماضی کے استعمار کا صفحہ پلٹ کر مستقبل کی وحدت کو تشکیل دیا جائے۔ کیونکہ حقیقی سلامتی صرف گشت اور کیمروں کے بل بوتے پر قائم نہیں ہوتی، بلکہ ایک تمدنی و سیاسی منصوبے پر استوار ہوتی ہے جو امت کو اس کا اقتدار واپس دلاتا ہے اور ایسی ریاست کی بنیاد رکھتا ہے جو پہل کاری کی صلاحیت رکھتی ہو اور بڑی طاقتوں کی سرپرستی اور ان کے بدلتے ہوئے ایجنڈوں سے بے نیاز ہو کر سیکورٹی کی خودمختاری حاصل کر سکے۔

Last modified onجمعہ, 03 جولائی 2026 14:09

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.