Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

 

بڑھتی ہوئی قیمتوں کا اسلام میں حل

 

 

تحرریر: استاد میسرہ یحییٰ

 

(ترجمہ)

 

بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ہماری زندگی کے ہر پہلو پر اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے، جس کی وجہ سے ہمارے لیے زندگی کی بنیادی ضروریات کا حصول بھی تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔ یہ وہ صورتحال ہے جس تک ہم پہنچ چکے ہیں!

 

تاہم، ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہم مسلمان ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں اسلام کی نعمت سے نوازا ہے اور ہمارے پاس اپنا رسول (ﷺ) بھیجا ہے۔ جو بھی ان کی ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ بھٹکے گا اور نہ ہی تکلیف اٹھائے گا، کیونکہ اسلام کے پیش کردہ حل اس ذات کی طرف سے ہیں جو 'اللطیف' (نہایت باریک بین) اور 'الخبیر' (بڑی خبر رکھنے والا) ہے:

 

﴿أَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ﴾

 

"بھلا جس نے پیدا کیا وہ نہیں جانتا؟ حالانکہ وہ بڑا باریک بین اور باخبر ہے"۔ (سورۃ الملک: 14)

 

اسلام ایسے حل لایا ہے جو انسانیت کی تکریم کرتے ہیں۔ یہ دینِ غمگساری اور دینِ رحمت ہے، اور یہ رحمت تمام جہانوں (عالمین) کے لیے عام ہے۔ لفظ 'عالمین' اللہ (سبحانہ و تعالیٰ) کے سوا ہر چیز کا احاطہ کرتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

 

﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ﴾

 

"اور (اے محمدﷺ) ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے"۔ (سورۃ الانبیاء: 107)

 

یہ رحمت ان شرعی احکامات کی صورت میں آئی ہے جو ہر فرد کی بنیادی ضروریات کی مکمل تسکین کو یقینی بناتے ہیں، اور ساتھ ہی انہیں ایک مخصوص معاشرے اور اس کے مخصوص طرزِ زندگی کے اندر رہتے ہوئے زیادہ سے زیادہ ممکنہ حد تک تعیشات و آسائشوں کے حصول کے قابل بناتے ہیں۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اسلامی شریعت نے اس مسئلے کو درج ذیل احکامات کے ذریعے حل کیا ہے:

 

اول: اسلام لوگوں کے مال کو ناحق طریقے سے حاصل کرنے سے منع کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

 

﴿وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقاً مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَأَنْتُمْ تَعْلَـمُونَ﴾

 

"اور تم آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ اور نہ ان کو (رشوت کے طور پر) حاکموں تک پہنچاؤ تاکہ تم لوگوں کے مال کا کچھ حصہ گناہ کے ذریعے کھا سکو حالانکہ تم (اس کی حرمت کو) جانتے ہو"۔ (سورۃ البقرہ: 188)

 

کوئی بھی وصولی  جو اسلامی شریعت پر مبنی نہ ہو، حرام ہے۔ اس طرح، اسلام نے ہر اس شخص کے لیے دروازہ بند کر دیا ہے جو ہمارا مال ایسے طریقے سے لیتا ہے جس کی اجازت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (ﷺ) نے نہیں دی۔ اسی لیے سرحدوں پر اشیاء پر کوئی فیس نہیں لی جاتی، جنہیں آج کسٹم ڈیوٹی (Customs Duties) کہا جاتا ہے۔ اسلام نے ان کسٹم ڈیوٹیز کو حرام قرار دیا ہے۔ ابوالخیر سے روایت ہے کہ: مصر کے گورنر مسلمہ بن مخلد نے رویفع بن ثابت کو ٹیکس وصول کرنے والے (تحصیلدار) کے عہدے کی پیشکش کی، تو رویفع نے جواب دیا، "میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے، «إِنَّ صَاحِبَ المَكْسِ فِي النَّارِ» یعنی 'مکس (کسٹم ڈیوٹی) وصول کرنے والا آگ (جہنم) میں ہو گا'"۔ یہ حدیث ابوداؤد نے اپنی سنن میں اور طبرانی نے المعجم الکبیر میں روایت کی ہے، اور اسے صحیح قرار دیا گیا ہے۔ یہاں لفظ "مکس" سے مراد کسٹم ڈیوٹی ہے، اور یہ وہ تمام وصولیاں ہیں جو بیرون ملک سے درآمد شدہ سامان پر لوگوں سے لی جاتی ہیں۔ یہ محصولات قیمتوں میں اضافے  کی ایک بڑی وجہ ہیں، اور ہمارے پاکیزہ دین میں بالواسطہ ٹیکس (Indirect Taxes) بھی ناجائز ہیں۔

 

جہاں تک ویلیو ایڈڈ ٹیکس (VAT)، ایک فیصد ٹیکس اور دیگر کا تعلق ہے، تو یہ قیمتوں میں اضافے کی براہ راست وجوہات ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا ہے: «مَنْ دَخَلَ فِي شَيْءٍ مِنْ أَسْعَارِ الْمُسْلِمِينَ لِيُغَلِّيَهُ عَلَيْهِمْ كَانَ حَقّاً عَلَى اللَّهِ أَنْ يُقْعِدَهُ بِعُظْمٍ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» یعنی "جو شخص مسلمانوں کی قیمتوں کے معاملے میں مداخلت کرے تاکہ ان کے لیے قیمتیں بڑھا دے، تو اللہ پر یہ حق ہے کہ اسے قیامت کے دن آگ کی ایک بڑی جگہ پر بٹھائے" (ابوداؤد)۔ چنانچہ، یہ محصولات اور فیسیں قیمتوں کے بڑھنے کی بنیادی وجوہات میں شامل ہیں۔

 

دوسری بات: افراطِ زر  کا مسئلہ، جس نے لوگوں پر بوجھ ڈال رکھا ہے، ریاست کی طرف سے اسلامی شریعت کی اس خلاف ورزی کی وجہ سے ہے کہ اس نے کرنسی نوٹ کو سونے کی پشت پناہی کے بغیر رائج کر رکھا ہے۔ اسلام نے اس مسئلے کا حل سونے اور چاندی کو ریاست کی کرنسی بنا کر پیش کیا ہے، کیونکہ ان کی اپنی ایک موروثی قدر ہوتی ہے اور ان کی نقل (جعل سازی) نہیں کی جا سکتی۔ اس طرح ریاست میں افراطِ زر پیدا نہیں ہوتا اور قیمتیں مستحکم رہتی ہیں۔

 

تیسری بات: اسلام سودی  اور استعماری اداروں جیسے ورلڈ بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے ساتھ لین دین سے منع کرتا ہے۔ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ان دو استعماری اداروں کی مداخلت ممالک کو ان کے وسائل سے محروم کر کے غریب بنا دیتی ہے، اور لوگوں کے معاملات کو ان اداروں کے مفادات کا محتاج بنا دیتی ہے۔ ان کی مداخلت دو وجوہات کی بنا پر نقصان دہ ہے:

 

1۔ وہ سود (ربا) میں لین دین کرتے ہیں، جو کہ حرام ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

 

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ فَإِنْ لَـمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللهِ وَرَسُولِهِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِـمُونَ وَلَا تُظْلَـمُونَ﴾

 

"اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو اگر تم مومن ہو۔ پھر اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلانِ جنگ سن لو۔ اور اگر تم توبہ کر لو تو تمہارے لیے تمہارے اصل اموال ہیں، نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے"۔ (سورۃ البقرہ: 278)

2۔ یہ بات یقینی طور پر ثابت ہے کہ ان دو اداروں کے ساتھ لین دین ملکی معیشت میں ساختی تبدیلیاں مسلط کر کے ملک اور اس کے وسائل کو کافر مغرب کے پاس گروی رکھ دیتا ہے، جیسے کہ اشیاء پر سے سبسڈی (رعایت) کا خاتمہ، ٹیکسوں میں اضافہ، اور ملک کو ناکام منصوبوں میں دھکیلنا۔ یہ چیز ملک میں کفار کو غلبہ فراہم کرتی ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا ہے جب اس نے ارشاد فرمایا:

 

﴿وَلَنْ يَجْعَلَ اللہُ لِلْکَافِرِینَ عَلَی الْـمُؤْمِنِینَ سَبِیلاً﴾

 

"اور اللہ ہرگز کافروں کو مومنوں پر (غلبہ پانے کا) کوئی راستہ نہیں دے گا"۔ (سورۃ النساء: 141)

 

عربی زبان میں لفظ "لن" (ہرگز نہیں) 'تأبید' (ہمیشہ کے لیے) کے معنی دیتا ہے، اس لیے یہ مسلمانوں پر تسلط جمانے والے کافر استعمار پسندوں اور ان کے بین الاقوامی اداروں کے اثر و رسوخ کو کاٹ پھینکنے کو واجب قرار دیتا ہے۔

 

اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ اسلام نے انسانی مسائل کو حل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ، جس نے ہمیں پیدا کیا، اس نے خود ہمارے معاملات کی ذمہ داری لی ہے اور ایسے شرعی احکام مقرر کیے ہیں جو ہمارے تمام مسائل کا حل پیش کرتے ہیں۔ اسلام اس سے بھی آگے جاتا ہے، کیونکہ جو شخص زندگی کی بنیادی ضروریات حاصل کرنے سے قاصر ہو، اسے ریاست کے سپرد کر دیا جاتا ہے جو اس کی ذمہ دار سرپرست ہوتی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: «مَنْ تَرَکَ مَالاً فَلِوَرَثَتِہِ، وَمَنْ تَرَکَ کَلاًّ فَإِلَیْنَا» یعنی "جو شخص مال چھوڑ جائے وہ اس کے وارثوں کے لیے ہے؛ اور جو (ایسے پسماندگان) چھوڑ جائے جو بوجھ ہوں، تو وہ ہماری ذمہ داری ہیں" (بخاری)۔ بے لگام سرمایہ دارانہ نظام اور اسلام کے فلاحی نظام کے درمیان کتنا عظیم فرق ہے!

 

ایک اہم نکتہ ہے جسے ہمیں سمجھنا چاہیے، اور وہ یہ ہے کہ انسانیت کے لیے اس تکلیف سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے جس کا وہ سامنا کر رہی ہے سوائے اس کے کہ اسلام کے نظام کو اس کی مکمل صورت میں نافذ کیا جائے۔ مذکورہ بالا حل ان موجودہ کمزور اور نااہل ریاستوں کے ذریعے نافذ نہیں کیے جا سکتے۔ ان حلوں کے لیے ایک نظریاتی ریاست کی ضرورت ہے، اور یہ خلافت کے سوا کچھ نہیں ہے۔ یہی وہ شرعی فریضہ اور ان بحرانوں سے نکلنے کا راستہ ہے جن کا ہم آج سامنا کر رہے ہیں۔

 

لہذا، میرے بھائیو اور بہنو، اس سفر میں تیزی لائیں تاکہ ہم پہلے اللہ (سبحانہ و تعالیٰ) کے سامنے اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو سکیں، اور اپنی امت کو اس سختی سے بچا سکیں جس کا ہم تجربہ کر رہے ہیں۔ صرف خلافت ہی اس دنیا اور آخرت میں نجات اور چھٹکارے کا راستہ ہے، تاکہ ہم اس جاہلیت کی موت سے بچ سکیں جس کے بارے میں پیارے نبی ﷺ نے متنبہ فرمایا تھا: «وَمَنْ مَاتَ وَلَیْسَ فِی عُنُقِہِ بَیْعَۃٌ مَاتَ مِیتَۃً جَاہِلِیَّۃً» یعنی "جو شخص اس حال میں مرا کہ اس کی گردن میں (خلیفہ کی) بیعت نہ تھی، وہ جاہلیت کی موت مرا"۔ چنانچہ، پھر ہم راحت اور خوشحالی میں زندگی گزاریں گے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

 

﴿فَإِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ مِّنِّیْ ھُدًی فَمَنِ اتَّبَعَ ھُدَایَ فَلاَ یَضِلُّ وَلاَ یَشْقٰی﴾

 

"پھر اگر میری طرف سے تمہارے پاس ہدایت آئے، تو جس نے میری ہدایت کی پیروی کی وہ نہ بھٹکے گا اور نہ تکلیف اٹھائے گا"۔ (سورۃ طہٰ: 123) 

Last modified onہفتہ, 13 جون 2026 15:06

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.