Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

 

کیا پاکستان اپنی باری کا انتظار کرتا رہے گا یہاں تک کہ امریکہ اس پر حملہ کر دے؟!

 

 

تحریر: استاد مصعب عمیر، ولایہ پاکستان

 

پاکستان اس وقت امریکی اسٹریٹجک اور عسکری قیادت کے نشانے پر ہے۔ 18 مارچ 2026 کو ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس کے دفتر نے اپنی رپورٹ "2026 اینول تھریٹ اسیسمنٹ آف دی یو ایس انٹیلی جنس کمیونٹی" جاری کی، جس میں صفحہ 25 پر یہ کہا گیا: "پاکستان مسلسل زیادہ جدید میزائل ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے، جو اس کی فوج کو ایسے میزائل نظام تیار کرنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے جو جنوبی ایشیا سے باہر اہداف کو نشانہ بنا سکیں، اور اگر یہ رجحانات جاری رہے تو ایسے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل (ICBMs) بھی تیار ہو سکتے ہیں جو امریکہ کے لیے خطرہ ہوں گے۔"

 

پاکستان کے حکمران طبقے کا ردِعمل حسبِ توقع کمزور اور دفاعی نوعیت کا تھا۔ دفترِ خارجہ پاکستان کے ترجمان نے 19 مارچ 2026 کو ایک بیان میں کہا: "پاکستان ایک امریکی اہلکار کے حالیہ دعوے کو قطعی طور پر مسترد کرتا ہے، جس میں پاکستان کی میزائل صلاحیتوں کو ممکنہ خطرہ قرار دیا گیا ہے۔" پاکستان کا حکمران طبقہ ایک دفاعی طرزِ عمل اختیار کیے ہوئے ہے، جو کہ امریکہ، یہود اور ہندو مشرکین جیسے مخالفین کے مقابلے میں ایک مہلک غلطی ہے۔ وہ محض انتظار کی پالیسی پر قائم ہے، جبکہ امت کے دشمن بیانیے تشکیل دے رہے ہیں، تیاری کر رہے ہیں، پیش قدمی کر رہے ہیں اور اپنی قوت مجتمع کر رہے ہیں۔ یہ انتظار 31 اکتوبر 2025 سے جاری ہے، جب ٹرمپ نے کہا: "پاکستان ٹیسٹنگ کر رہا ہے۔" انٹرویو لینے والے نے اس رائے کو چیلنج کرتے ہوئے کہا: "میری معلومات کے مطابق یہ جوہری ہتھیار نہیں ہیں۔" اس پر ٹرمپ نے جواب دیا: "یقیناً انہوں نے کیے ہیں۔" یہ انتظار 2 مارچ 2026 سے بھی جاری ہے، جب امریکی وزیرِ دفاع نے کہا: "ایران جیسے غیر ذمہ دارانہ نظام، جو مذہبی شدت پسندانہ تصورات پر مصر ہیں، کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔"

 

آخر کیوں پاکستان کو اس کمزور اور دفاعی حکمتِ عملی پر قائم رہنا چاہیے، جبکہ اس کے مقابلے میں شر کی قوتیں، امریکہ، یہودی وجود اور ہندو ریاست، صف آرا ہیں؟! امریکہ کے الزامات کو مسترد کرنا، امریکہ کی نظر میں اتنی ہی وقعت رکھتا ہے جتنی وقعت اس کے اپنے بے بنیاد الزامات کی ہے۔ امریکہ کو مسلم ممالک پر حملہ کرنے کے لیے کسی مضبوط جواز کی ضرورت نہیں ہوتی، جیسا کہ 2001 کے بعد اس کی صلیبی مہمات سے واضح ہے۔ اپنے دعوؤں کی شدید تردید کے باوجود، امریکہ نے 2001 میں افغانستان پر حملہ کیا۔ اس کے بعد اس نے اپنے ایجنٹ مشرف کو متحرک کیا کہ وہ 2002 میں کشمیر میں مجاہدین کے خلاف کارروائی کرے۔ پھر اس نے اپنی عسکری چوکی، یعنی یہودی وجود، کو فلسطین پر حملوں کے لیے استعمال کیا۔ اس کے بعد 2003 میں عراق پر حملہ کیا گیا۔ حالیہ برسوں میں بھی، شدید عالمی مخالفت اور تردید کے باوجود، امریکہ نے یہودی وجود کو غزہ، لبنان، یمن، شام اور اب ایران پر حملوں کے لیے مالی اور عسکری معاونت فراہم کی۔ امریکہ جرات مندانہ اقدامات کرتا ہے، مسلسل پیش قدمی کرتا ہے اور اپنی قوت میں اضافہ کرتا ہے، جبکہ مسلمانوں کے حکمران ابتدا میں مذمت اور تردید سے آغاز کرتے ہیں اور انجام کار پسپائی، ہتھیار ڈالنے، سہولت کاری اور تعاون پر منتج ہوتے ہیں۔

 

اے پاکستان کے مسلمانوں، ان کے اسٹریٹجک ماہرین اور ان کی مسلح افواج!

 

آئیے ایران میں اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں پر آنے والی آزمائش سے سبق حاصل کریں اور دفاعی طرزِ عمل کے خطرات کو سمجھیں۔ ایران کا حکمران طبقہ اس وقت بھی انتظار کرتا رہا جب امریکہ اور یہودی وجود نے غزہ کے لوگوں کو ان کے گھروں، اسکولوں، ہسپتالوں اور مساجد سمیت ملبے تلے دبا دیا۔ وہ اس وقت بھی خاموش رہا جب ٹرمپ نے ایک نئے مشرقِ وسطیٰ کی تشکیل کا اعلان کیا، جبکہ یہ بات معروف ہے کہ امریکہ کا "گریٹر مڈل ایسٹ" کا تصور پاکستان اور افغانستان تک پھیلا ہوا ہے۔ وہ اس وقت بھی منتظر رہا جب ٹرمپ نے یہودی وجود کو رقبے اور اثر و رسوخ کے اعتبار سے مزید وسعت دینے کی بات کی۔ وہ اس وقت بھی خاموش رہا جب امریکہ اور یہودی وجود نے لبنان میں ایران کے مزاحمتی محور کو کمزور کر دیا۔ وہ اس وقت بھی انتظار کرتا رہا جب جنگ کا دائرہ فلسطین سے باہر وسیع کیا گیا۔ جون 2025 میں ایران پر حملے کے بعد بھی اس نے کوئی پیش قدمی نہ کی۔ وہ اس وقت بھی خاموش رہا جب ہندو ریاست نے امریکہ اور یہودی وجود کے ساتھ اپنے تعلقات اور ہم آہنگی کو مزید مضبوط کیا۔ حتیٰ کہ جب امریکہ نے ایران کے گرد اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کیا، طیارہ بردار بحری بیڑے تعینات کیے اور اپنی نگرانی کے مراکز، جن میں پاکستان میں موجود سفارت خانے اور قونصل خانے بھی شامل ہیں، کو فعال بنایا، تب بھی ایران کا حکمران طبقہ محض مذمت اور تردید تک محدود رہا۔ اور پھر ایران پر تباہ کن حملہ کیا گیا، جبکہ وہ مکمل طور پر دفاعی پوزیشن میں تھا اور اس نے کبھی پہل نہ کی۔ حتیٰ کہ آج بھی ایران دفاعی اور جوابی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے، جبکہ اسے پیش قدمی کرنی چاہیے، بشمول ان امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے جو مسلسل جنگی دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

 

آئیے اپنے دین سے رہنمائی حاصل کریں کہ ان جارح دشمنوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے، جو ہر حد پار کر جاتے ہیں اور ایسے سفاکانہ اعمال سے بھی دریغ نہیں کرتے جن سے جنگل کے درندے بھی گریز کرتے ہیں۔ ہندو مشرکین کے خلاف اسی طرح پیش قدمی کریں جیسے رسول اللہ ﷺ نے غزوۂ بدر میں مکہ کے مشرکین کے خلاف کی۔ یہودی وجود کے خلاف اسی طرح اقدام کریں جیسے رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے یہودیوں کے خلاف کیا، جب آپ ﷺ کو ان کی سازشوں کی خبر ملی کہ وہ مشرکین کے ساتھ مل کر مدینہ منورہ پر حملہ کرنا چاہتے ہیں۔ صلیبی قوتوں کے خلاف اسی طرح اقدام کریں جیسے رسول اللہ ﷺ نے غزوۂ تبوک میں کیا، جب آپ ﷺ کو رومیوں کی تیاری کی اطلاع ملی۔ پس پیش قدمی کرو، اپنی قوت مجتمع کرو اور دشمنوں کا مقابلہ کرو، اے امتِ اسلام! اور اس سمت میں پہلا اور بنیادی قدم خلافتِ راشدہ کا فوری قیام ہے، جو تمام مسلمانوں کی مشترکہ قیادت ہو گی، خواہ وہ عرب ہوں یا عجم، حنفی ہوں یا جعفری۔ یہ خلافت امریکہ کے ساتھ تمام تعلقات منقطع کر دے گی۔ وہ مسلم دنیا میں موجود سفارت خانوں اور قونصل خانوں کو بند کر دے گی، جو امریکی فوجی کارروائیوں کی رہنمائی کے لیے اہم نگرانی مراکز کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ وہ پوری مسلم دنیا کو ایک امام کے تحت متحد کرے گی، جو اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام کے مطابق حکمرانی کرے گا۔ وہ امتِ مسلمہ کی تمام عسکری قوت کو ایک فیصلہ کن معرکے کے لیے مجتمع کرے گی تاکہ امریکہ کو مسلمانوں کی سرزمین سے انخلا پر مجبور کیا جا سکے۔ وہ افواج کو متحرک کرے گی تاکہ مسلمانوں کی مقبوضہ سرزمینوں، چاہے وہ کشمیر ہو یا سرزمینِ فلسطین، کو دریا سے سمندر تک آزاد کرایا جا سکے۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

 

﴿وَقُل لِّلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ اعْمَلُوا عَلَىٰ مَكَانَتِكُمْ إِنَّا عَامِلُونَ

 

"اور ان لوگوں سے کہہ دیجیے جو ایمان نہیں لاتے: تم اپنے طریقے پر عمل کرتے رہو، ہم بھی اپنے طریقے پر عمل پیرا ہیں۔"(سورۃ ہود:آیت 121)

Last modified onپیر, 30 مارچ 2026 05:50

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.