Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

 

نارملائزیشن  اور سرمایہ کاری: مشرقِ وسطٰی میں نئی امریکی پالیسی کے دو بازو (دوسرا حصہ)

 

تحریر: استاد احمد القصص

(ترجمہ)

 

مشرقِ وسطی کے خطے کو ایک سرمایہ کاری کے علاقے (Investment Zone) میں تبدیل کرنے کے امریکی منصوبے کے لیے بڑے پیمانے پر استحکام کا قیام ضروری ہے، اور اس مقصد کے لیے نام نہاد "عرب اسرائیل تنازع" کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ ٹرمپ نے اپنے گزشتہ دورِ اقتدار سے ہی  "ابراہیمی معاہدات" (Abraham Accords) کے ذریعے اس سمت میں تیزی سے پیش رفت کی ہے، جن کا مقصد اس تنازع کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے، تاکہ خطے کی وجودیں ایک ایک کر کے اس غاصب وجود (اسرائیل) کو تسلیم کر لیں۔ اب بہت کم ممالک ایسے رہ گئے ہیں جنہوں نے اسے تسلیم نہیں کیا، بلکہ یہاں تک کہ وہ ممالک جنہوں نے اسے باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا، انہوں نے بھی اس کے ساتھ اس طرح معاملہ کرنا شروع کر دیا ہے جیسے اسے تسلیم کر لیا گیا ہو۔ مثال کے طور پر جب شام کی نئی اتھارٹی اور قابض وجود کے درمیان وزارتی سطح پر ملاقاتیں ہوتی ہیں اور وہ تجارت، زراعت، انٹیلی جنس اور سیکورٹی وغیرہ میں تعاون پر اتفاق کرتے ہیں، تو اسے محض سفیروں کے تبادلے سے بھی بڑھ کر "نارملائزیشن" (تعلقات کی بحالی) قرار دیا جائے گا۔

 

چنانچہ ہر کوئی اس تگ و دو میں ہے کہ کسی نہ کسی طرح مکمل نارملائزیشن تک پہنچ جائے۔ اس نئی نارملائزیشن کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ اسے مذہبی جواز فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایک طرف تو شاہی فقہاء کی طرف سے غاصب وجود کے ساتھ تعلقات کی بحالی اور امریکی احکامات کی تابعداری کو جائز قرار دینے کے لیے فتووں کا تانتا بندھا ہوا ہے، اور دوسری طرف امریکہ، یہودی وجود اور غدار حکمران مل کر ایک نئے "دینِ ابراہیمی" (Abrahamic Religion) کی تشہیر کر رہے ہیں جس کا مقصد خطے کے تمام باشندوں،یعنی یہودیوں، عیسائیوں، مسلمانوں اور اسلام سے منحرف گروہوں،کو ایک ہی ملت قرار دینا ہے، اس بنیاد پر کہ وہ سب ابو الانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد ہیں۔ اسی بنیاد پر ٹرمپ کے پہلے دورِ اقتدار میں طے پانے والے حالیہ معاہدوں کو "ابراہیمی معاہدات" کا نام دیا گیا۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ پوپ،جو اس منصب تک پہنچنے والا پہلا امریکی ہے، اور جن کی جیت کے پیچھے ٹرمپ کا ہاتھ ہونے کا قوی گمان ہے، اس کے دورے  کا عنوان "امن" رکھا گیا تھا جو کہ نارملائزیشن کی جانب دھکیلنے کے اس عمل کا حصہ تھا۔ یہ بات بھی توجہ طلب تھی کہ لبنان کے صدر نے اس پیغام کو بخوبی سمجھا اور پوپ کا استقبال ایک ایسی تقریر سے کیا جس میں اس نے تین بار "ابراہیمی" کا لفظ استعمال کیا۔ اس نے اس بات پر فخر کیا کہ لبنان نے سیدہ مریم علیہا السلام کی بشارت کے دن کو "لبنان کے تمام فرقوں اور ہمارے تمام ابراہیمی ادیان کے لیے ایک قومی تہوار" قرار دیا ہے! اس نے "تمام فرزندانِ ابراہیم کے درمیان امن، امید اور مصالحت" کی دعا بھی کی! اس کا کہنا تھا کہ: "یہ مجمع پطرس کے جانشین (پوپ) کے گرد جمع ہو سکتا ہے، جو ابراہیم کے تمام بیٹوں کے متفقہ نمائندے ہیں، اپنے تمام عقائد، مقدسات اور مشترکات کے ساتھ!" اپنے اس بیان کے ذریعے وہ درحقیقت ابراہیمی منصوبے میں شمولیت کا اعلان کر رہا تھا۔ یہ بات انتہائی تکلیف دہ اور شرمناک تھی کہ لبنان میں مذہبی پیشواؤں کی پوپ کے ساتھ ملاقات کے دوران قرآن پاک کی تلاوت کرنے والے قاری نے ایسی آیات کا انتخاب کیا جن میں "سلام" یا "سلم" (امن) کا لفظ آیا تھا، تاکہ یہ پیغام دیا جا سکے کہ ہم بھی امن چاہتے ہیں!

 

آج کے امن منصوبوں کا خطرہ گزشتہ منصوبوں سے کہیں زیادہ ہے، کیونکہ یہ صرف جنگوں، تباہی اور تنازعات کو ختم کرنے کی ضرورت کی باتوں تک محدود نہیں ہیں، بلکہ اس امن کو اس عنوان کے تحت جائز اور قانونی قرار دینا مقصود ہے کہ خطے کے تمام باشندے "ابنائے ابراہیم" (اولادِ ابراہیم) کی حیثیت سے ایک ساتھ مل کر زندگی گزاریں۔ اس معاملے کو مزید خطرناک بنانے والی چیز یہ ہے کہ امریکہ اور اس کے ساتھ قابض وجود (اسرائیل) خطے کو غاصب وجود جیسی چھوٹی چھوٹی وجودوں میں تبدیل کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، تاکہ یہ پورا علاقہ فرقہ وارانہ، مذہبی یا نسلی بنیادوں پر چھوٹے چھوٹے گروہوں میں بٹ جائے۔ چنانچہ یہودی وجود کے ساتھ ساتھ ایک عیسائی وجود، ایک شیعہ وجود، ایک درزی، ایک نصیری، ایک کرد، ایک سنی وجود، اور اسی طرح دیگر وجود سامنے آئیں۔ ان وجودوں کو امریکہ ایک ایسے معاشی بندھن میں جوڑ دے گا جس پر اس کا اپنا کنٹرول ہوگا، اور یہ کنٹرول خطے کے علاقائی معاشی ستونوں کو اپنے قبضے میں لے کر حاصل کیا جائے گا، جن میں سائنسی دماغ، افرادی قوت، مالی سرمایہ، صارفین کی منڈیاں، توانائی کے ذرائع، مواصلاتی و نقل و حمل کے نیٹ ورکس، فضائی و بحری بندرگاہیں، اور وہ سرکاری ادارے شامل ہیں جو قانونی طور پر سرحد پار امریکی سرمایہ کار کمپنیوں کو ٹھیکے دیتے ہیں، تاکہ وہ خطے کی معیشت پر مکمل طور پر حاوی ہو سکے۔

 

جہاں تک موجودہ حکمران حکام یا مستقبل میں ممکنہ طور پر بننے والی نئی وجودوں کا تعلق ہے، تو ان کا اولین مقصد اپنے فرقہ وارانہ اور گروہی مفادات کا تحفظ، تیزی سے بننے والی "خون کی سرحدوں" کی پاسبانی، سرحدی علاقوں پر باہمی تنازعات، اور دوسرے گروہوں سے ڈرا کر عوام کو فرقہ وارانہ اور مذہبی بنیادوں پر اپنے گرد اکٹھا کرنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ امریکی سرپرست کی طرف رجوع کریں گے تاکہ وہ ان کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرے جیسا کہ ابھی ہو رہا ہے۔ مزید برآں، وہ اس نسبتی مالی خوشحالی پر تکیہ کریں گے جو امریکی آقا کی نگرانی میں جاری تعمیرِ نو کے کاموں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے روزگار کے مواقع سے حاصل ہوگی۔ امریکہ اور اس کا پروردہ غاصب وجود (اسرائیل) یہ امید رکھتے ہیں کہ مسلمان اکثریت، جن کا ماضی انقلابی اور جہادی رہا ہے، اپنی تمام تر توجہ روزی روٹی کی تلاش، معاشی سطح کی بہتری اور تعمیر و ترقی کے کاموں میں حصہ لینے پر مرکوز کر دے گی، اور وہ ملک کی دوبارہ تعمیر، معاشی طاقت کی بحالی اور اقوامِ عالم میں اپنا مقام پیدا کرنے کے وہم میں مبتلا ہو جائے گی۔

 

جبکہ حقیقت میں وہ امریکی علاقائی معاشی ڈھانچے کے اندر صرف وہی کردار ادا کر رہے ہوں گے جو ان کے لیے طے کیا گیا ہے، جس میں یہودی وجود ایک "لاڈلے رکن" کی حیثیت سے موجود ہوگی۔ ان کی مثال اسٹالن کے قدموں میں اس مرغی جیسی ہوگی جو اپنے پر نوچے جانے، لہولہان ہونے اور درد سے تڑپنے کے بعد فوراً وہ دانہ چگنے لگی جو اس نے اس کے سامنے پھینکا تھا۔ یہ اسٹالن سے منسوب وہ مشہور قصہ ہے جو اس نے اپنے اقتدار کے ستونوں کو یہ سکھانے کے لیے سنایا تھا کہ قوموں کو کس طرح مغلوب اور مطیع بنایا جاتا ہے۔ اس پالیسی کا واضح اظہار شام کے لیے امریکہ کے نام نہاد نمائندے، بدتہذیب سفیر ٹام براک نے صحافیوں کے سوالات کے جواب میں ان الفاظ میں کیا: "مشرقِ وسطیٰ کا کوئی وجود نہیں ہے... وہاں صرف قبیلے اور دیہات ہیں... مشرقِ وسطیٰ اس طرح کام نہیں کرتا، اس کی ابتدا ایک فرد سے ہوتی ہے، پھر خاندان، پھر گاؤں، پھر قبیلہ، پھر معاشرہ، پھر مذہب، اور آخر میں یہی اس قوم کی حقیقت ہے... یہ ایک وہم ہے کہ ہم 27 مختلف وجودوں کو، جن میں 110 مختلف نسلی گروہ شامل ہیں، سیاسی تصورات کے مطابق متحد کر دیں گے۔ تو پھر وہ کن تصورات پر متفق ہوں گے جو میری اور میرے بچوں کی زندگی کو بہتر بنا سکیں؟"

 

یہ وہ تصور ہے جو امریکہ اس خطے کے لیے چاہتا ہے جو کہ امتِ مسلمہ کا مرکز ہے۔ یعنی بلادِ شام جو اقصیٰ کی آغوش، بنو امیہ کی خلافت اور ایوبی سلطنت کا مرکز رہا ہے، اور عراق جو خلافتِ عباسیہ اور سلجوقی سلطنت کا دارالخلافہ تھا، اور مصر جو مملوکوں کا مرکز رہا ہے... امریکہ چاہتا ہے کہ یہاں کے لوگ ایسی قوموں میں بدل جائیں جن کا مقصدِ زندگی صرف خوشحالی کے سراب کے پیچھے بھاگنا ہو، اور وہ جہاد، شریعت کی بالادستی، امت کی حاکمیت اور اسے متحد کرنے والی خلافت کے تصورات کو پسِ پشت ڈال دیں۔ یہ بلاوجہ نہیں ہے کہ ایسے بیانات کو فروغ دیا جا رہا ہے کہ: "ہم بہت قتل ہوئے، بہت ذبح ہوئے، بہت بے گھر ہوئے اور بہت تھک چکے ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سکھ کا سانس لیں اور آرام کریں!" حقیقت یہ ہے کہ خطے میں جاری امریکی منصوبہ ہمیں سکھ کا سانس لینے دینا نہیں چاہتا، بلکہ وہ ہمارے سامنے صرف ایک ہی راستہ کھولنا چاہتا ہے، اور وہ ہے تھوڑی سی مادی خوشحالی کے بدلے اس کے سیاسی، معاشی، حفاظتی اور فوجی تسلط کے نیچے زندگی گزارنا۔ امریکہ نے اپنے اس منصوبے کا آغاز خطے کے نظاموں کو فوجی، سیکورٹی اور معاشی معاہدوں کا پابند بنا کر کر دیا ہے، جن میں سب سے حالیہ شام کا "دہشت گردی" کے خلاف بین الاقوامی اتحاد میں شامل ہونا اور امریکہ-اسرائیل-شام کا وہ مشترکہ اعلان ہے جس میں سیکورٹی، انٹیلی جنس، تجارتی اور زرعی تعاون کے معاہدوں کے آغاز کا ذکر کیا گیا ہے…

 

حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے رکن

Last modified onبدھ, 11 فروری 2026 20:57

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.